تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 574

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِيْ بِمَا نَسِيْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِيْ مِنْ اس نے کہا (کہ اس دفعہ)آپ مجھ پر گرفت نہ کریں کیونکہ میں (آپ کی ہدایت کو)بھو ل گیاتھااورآپ میری اَمْرِيْ عُسْرًا۰۰۷۴ (اس )بات کی وجہ سے مجھ پرسختی نہ کریں۔حلّ لُغَات۔تُرھِقْنِیْ۔اَرْھَقَہٗ عُسرًا کے معنے ہیں کَلَّفَہٗ اِیَّاہ۔اس پر سختی کی (اقرب) پس لَا تُرْھِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا کے معنے ہوں گے کہ آپ مجھ پر میری بات کی وجہ سے سختی نہ کریں (اقرب) تفسیر۔یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اچھا اس دفعہ معاف کرو۔پھر ایسی بات نہ کروں گا۔اس آیت میں بتایا ہے کہ شروع شروع میں یہود و نصاریٰ محمد رسول اللہ صلعم سے صلح کریںگے مگربعد میں اعتراضات شروع کردیں گے اورآخرقطع تعلق ہوجائے گا۔چنانچہ جب آپؐ مدینہ تشریف لائے توپہلے یہود نے آپ سے صلح کی اورآپ کی پار ٹی میں شامل ہوئے۔مگر جب ان قربانیوں کودیکھا جوآپ کےساتھ مل کر کرنی پڑی تھیں توجھگڑاشروع کردیا چنانچہ بنوقینقاع نے آپ سے اس بات پراختلاف کیا کہ ایک تاوان جوبعض مسلمانوں پر پڑاتھا اورجس میں حصہ لینا معاہدہ کے روسے یہودپربھی فرض تھا۔اس میں حصہ لینے کے لئے یہود کو کیوں کہاجاتاہے (سیرۃ الحلبیۃ غزوۃ بنی النضیر )۔نصاریٰ کابھی یہی حال تھا۔شروع شروع میں وہ مسلمانوں سے اچھے تعلقات رکھتے تھے۔حتی کہ آپؐ نے جب بادشاہوں کو خطوط لکھے توقیصر نے شروع میں آپؐ کی تعریف کی(بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی)۔لیکن بعد میں جب دیکھا کہ اسلامی سیاست مسیحی سیاست سے ٹکراتی ہے تواسلام سے جنگ شروع کردی۔جس کاخمیازہ اس نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایسا بھگتا کہ صدیوں تک ا س کا اثر نہ مٹا۔فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ پھر و ہ(دونوں وہاں سے )چل پڑے یہاں تک کہ وہ جب ایک لڑکے کوملے تواس(خداکے بندہ)نے اسے مارڈالا۔