تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 52
آڑ لے کر وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کے جوئے سے آزاد ہوناچاہیں گے۔مگرقوم کے ڈر سے یہ ظاہرنہ ہونے دیں گے کہ درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کے وجود سے ہی منکر ہیں۔مصلح کے لئے انسانی فطرت کی گہرائیوں کی کامل واقفیت اور دلوں کے خیالات کا علم ہونا ضروری ہے اب اس قسم کے دلی شبہات کو اگر مصلح نہیں جانتاتووہ ان امورکے متعلق دلائل دیتا رہے گا جواصل میں خرابی کاموجب نہیں۔بلکہ دھوکا دینے کے لئے صرف منہ سے بیان کئے جاتے ہیں۔لیکن جو دل کے عیب کاواقف ہےوہ منہ کی باتوں کو نظرانداز کرکے اس شبہ کے ازالہ پر زوردے گاجو دل میں چھپایاگیا ہے اوراصلاح میں کامیاب ہوجائے گا۔اوردل کی باتوں کاعلم چونکہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے جس طرح صرف وہی انسانی قوتوں کا مکمل علم رکھتا ہے۔اس لئے ہدایت نامہ بھیجنا بھی اس کے شایان شان ہے اوراسی کا بھیجاہو اہدایت نامہ دنیا کی اصلاح کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔اس دعویٰ کاعملی ثبوت قرآن کریم کاوجود ہے۔اس میں تمام انسانی قوتوں کی راہنمائی کے سامان موجود ہیں اورانسان کی مخفی سے مخفی قوتوں کو ابھارنے کے لئے تعلیم موجود ہے۔اسی طرح اس میں ہرانسانی شبہ کا جواب موجود ہے۔حتّٰی کہ جو شبہات سائنس کی ترقی کی وجہ سے آج کل کے زمانہ میں لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیںاورجن کو اکثر آدمی اپنی قوم کے ڈر سے زبان پر لانے سے ڈرتے ہیں قرآ ن کریم نے انہیں بھی بیان کیاہے اوران کا جواب بھی دیاہے۔وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـًٔا وَّ هُمْ اوراللہ (تعالیٰ)کے سوا جن (معبودان باطلہ ) کو وہ پکارتے ہیں وہ کچھ (بھی )پیدا نہیں کرسکتے اور(اس سے بھی يُخْلَقُوْنَؕ۰۰۲۱ بڑھ کر یہ کہ )وہ خود پیداکئے جاتے ہیں۔تفسیر۔اس جگہ یہ خیال مشرکوں کی طرف سے معاندانہ رنگ میں ظاہر کیا جاسکتا تھا کہ یہ تمہارادعویٰ غلط ہے کہ ہمارے معبود ہدایت نہیں دے سکتے وہ بھی دلوں کے بھید جانتے ہیں اوروہ بھی ہدایت دیناچاہیں تودے