تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 51
نعمتیں گننا چاہو تب بھی گن نہیں سکتے۔پھر جس طرح اس نے یہ دنیوی نعمتیں نازل کی ہیں کیوں روحانی نعمتیں نازل نہ کرے۔اورمعبودان باطلہ کی طرح جوکوئی طاقت نہیںرکھتے گونگا ہوکر بیٹھ رہے۔دوسرے فرمایا کہ وہ غفو ر رحیم ہے اگر وہ ہدایت نہ بھیجے تو کمزورو ں کی معافی اورقابل لوگوں کی عزت کے بڑھانے کے سامان کس طرح پیداہوسکتے ہیں۔اگر وہ ہدایت بھیجنے سے کوتاہی کرے توساتھ ہی اس کی غفور اوررحیم کی صفات بھی معطل ہوجاتی ہیں۔پس وہ ایسانہیں کرسکتا۔وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ۰۰۲۰ اورجوکچھ تم چھپاتے ہو اورجو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اللہ (تعالیٰ)اس (سب)کوجانتا ہے۔تفسیر۔اب ایک اوردلیل دیتا ہے کہ کیوں انسان یا اُن کے معبودان باطلہ ہدایت کاسامان بہم نہیں پہنچاسکتے اوراللہ تعالیٰ ہی ایسا کرسکتاہے۔فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ ظاہر اورمخفی طاقتوں کو جانتا ہے۔ان شبہات کو بھی جانتا ہے جن کو تم بیان کرتے ہو اوران کو بھی جن کو تم چھپاتے ہو۔پس ہدایت کاکام بھی وہی کرسکتا ہے۔انسانی ہدایت کے لئے دو امور کی واقفیت کی غرض یاد رکھنا چاہیے کہ انسانی ہدایت کے لئے دوامورکا ہوناضروری ہے۔ایک تویہ کہ انسانی فطرت کی گہرائیوں سے کامل واقفیت ہو۔کیونکہ جب تک ظاہری و باطنی قوتوں کا علم نہ ہو صحیح راہنمائی نہیں کی جاسکتی اورساری قوتو ں کے نشوونما کا سامان نہیں کیا جاسکتا۔دوسری بات یہ ضروری ہے کہ دلوں کے خیالات کا علم ہو۔کیونکہ ہزاروں لاکھو ں انسان اپنی قوم کے ڈر سے اپنے دلی شبہات بیان نہیں کرسکتے پھر جب ان کی مرض کاعلم نہ ہو توعلاج کرنے والا علاج کس طرح کرسکتا ہے۔مثلاً اس زمانہ میں سینکڑوں تعلیم یافتہ ہیں جو درحقیقت الہام کے وجود سے منکرہیں۔اگر ان کے سامنے الہام جاری ہونے کا مسئلہ پیش کیاجائے تووہ قوم کے ڈر سے یہ تونہیں کہتے کہ الہام کاوجود ہی کو ئی نہیں اورسب مدعیان الہام یاجھوٹے تھے یادھوکا خوردہ۔پس اس کی بجائے وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ قرآن کے بعد الہام کی کیا ضرورت ہے۔اسی طرح نئی تعلیم کے دلدادوں میں سے ہزاروں لاکھو ںکو اللہ تعالیٰ پر اعتقاد نہیں۔مگر جب ان سے خدا تعالیٰ کے متعلق بات کی جائے تویہ کبھی نہ کہیں گے کہ خدا تعالیٰ نہیں ہے بلکہ دوسری قسم کی باتیں کریں گے کہ خدا تعالیٰ توہےمگر اسے کیاضرورت ہے کہ دنیا کے معاملات میں دخل دے۔پس دل میں نیکی پیداکرنی چاہیےخدا تعالیٰ خوش ہوجائے گا۔غرض تصوف کے جھو ٹے مسائل کی