تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 551

ہوجانابتاتاہے کہ درمیانی نبی سچانہ تھا۔ورنہ وہ ان کی ترقیات کوروک دیتا۔یہ بات ذوقی نہیں بلکہ حضرت موسیٰ کاجوواقعہ آگے بیان ہواہے۔اس کامضمون بھی ا سی کی تصدیق کرتاہے۔جس کی تشریح اگلی آیات میں کی جائے گی۔سردست میں نے اس طرف اشارہ کردیاہے کہ چونکہ مسیحی ترقی کے پہلے دور اور دوسرے دور کے درمیان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاظہور مقد رتھا۔اس لئے مسیحی ترقی کے دونوں دوروں میں فاصلہ رکھا گیاہے۔اوردرمیان میںحضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کردیاگیاہے۔جن کے مثیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔تاجس طرح واقعات نے ظاہر ہوناتھا اسی طرح ان کا ذکر کیاجائے۔یہ واقعہ جو اس رکوع میں بیان ہواہے۔اس کے بارہ میں مفسرین میں اختلاف ہے مفسرین اکثر اس طرف گئے ہیں اوربعض احادیث میں بھی ا س کا ذکر آتاہے کہ خضرنامی ایک شخص سے ملاقات کے لئے حضرت موسیٰ ؑ تشریف لے گئے تھے۔ان آیات میں ا س سفرکے حالات بیان کئے گئے ہیں۔یہ سفرانہوں نے کیوں کیاتھا اس کے متعلق بھی اختلاف ہے۔بعض نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ نے خدا تعالیٰ سے پوچھاکہ کیامجھ سے زیاد ہ علم والابھی کوئی شخص ہے۔تواللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں ایک شخص ہے۔اورپھر اس شخص کاپتہ بتایا۔جس پرحضرت موسیٰ علیہ السلام اس شخص کو ملنے کے لئے گئے۔ایک روایت میں یہ آتاہے کہ بعض لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا آپ سے بڑھ کر بھی کوئی اورعالم ہے۔توانہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی اوراس شخص کاپتہ دیا ، جوان سے بڑھ کرعالم تھا۔اورا س پروہ اس سے ملنے کے لئے گئے (بخاری کتاب التفسیر سورۃ الکہف،کشاف ، قرطبی ابن جریر زیر آیت ھذا)۔ان پیشگوئیوں کی تفصیل جو سورہ کہف کے واقعات میں مضمر ہیں درحقیقت اس واقعہ کے سمجھنے میں لوگوں کو غلطی لگی ہے۔بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کاواقعہ سورئہ بنی اسرائیل میں بیان کیاگیاتھا اوراس اسراء کے نتائج بیان کئے گئے تھے کہ آئندہ کیاکیا واقعات ظاہر ہوں گے اورمسلمانوںکو کس طرح ترقیات ملیں گی۔پھر اسراء کی بیان کر دہ کامیابیوں میں مسلمانوں کے لئے جوخطرات پیش آنے والے تھے ان کا ذکرکیاتھا۔یعنی یہود اورنصاریٰ کی مخالفتوں کا ذکر کیاگیاتھا۔ان عظیم الشان خطرات میں سے ایک بڑاخطرہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ کی امت کاایک گروہ جوعیسائی کہلاتے ہیں (اگرچہ وہ اپنے آپ کو حضرت موسیٰ کی امت نہ کہیں مگر خداکے نزدیک وہ حضر ت موسیٰ ہی کی امت میں شامل ہیں )مسلمانوں کوآخری زمانہ میں سخت صدمہ پہنچانے والاتھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ