تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 552

نے اس کی تشریح کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسراء کے علاوہ خود حضرت موسیٰ کے اسراء کوبھی اس جگہ بیان فرمایا ہے۔جس سے ا س امر کی تصدیق مطلوب ہے کہ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غالب آئیں گے اورآپ ؐ کی امت کو غلبہ دیاجائے گا۔اورموسوی امت کابقیہ حصہ (عیسائی لوگ )غالب نہ ہوسکے گا۔یہ واقعہ حضر ت موسیٰ ؑ کاایک کشف ہے میرے نزدیک ظاہرجسم کے ساتھ ایساکوئی واقعہ انہیں پیش نہیں آیا۔استاذی المکرم حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کی یہی رائے تھی(حقائق الفرقان سورۃ الکہف زیر آیت واما الغلام۔۔۔)۔اورمیں اس بارے میں غور کرکے اسی نتیجہ پر پہنچاہوں کہ ان کی یہ رائے درست تھی۔اور میرے نزدیک بھی یہ کشف ہی ہے جس کے ثبوت مَیں ذیل میں بیان کرتاہوں۔حضرت موسیٰ کے سفر کے کشف ہونے کے ثبوت (۱)پہلاثبوت ا س کایہ ہے کہ اس قسم کے کسی سفرکے واقعہ کا ذکر بائیبل میں موجودنہیں۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ واقعہ ظاہر ی طورپر ظہور میں نہیں آیا۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ اس کے طرز بیان میں کچھ اختلاف ہوجائے مگرسرے سے ہی اس واقعہ کانہ پایاجاناایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔بنی اسرائیل کی روایات سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ کوبھی معرا ج ہواتھا(جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Ascesion) (چنانچہ مجھے معلوم ہواہے کہ عزیزم مولوی جلال الدین شمس صاحب نے یہودی روایات لندن میوزیم کی کتب دیکھ کرنکالی ہیں جن میں اس واقعہ کا ذکرہے۔اوریہودی کتب میں اس سفرکو جسمانی سفرقرار دیاہے۔مگر ان کا یہ لکھنا ہم پر حجت نہیں۔مسلمانوں سے بعض نے بھی تواسراء کو بلکہ معراج کو جسمانی قرا دےدیاہے ) (۲)بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہونے سے پہلے حضر ت موسیٰ کاایک ہی سفرثابت ہے جومدین کی طرف ہوا۔قرآن کریم میں بھی متعد د بار اس کا ذکر آیاہے۔اورقرآن اوربائیبل دونوں اس با ت پرمتفق ہیں کہ اس سفر میں وہ اکیلے تھے۔لیکن زیربحث واقعہ میں ان کے ساتھ ایک ساتھی کابھی ذکر ہے۔جوان کے ماتحت معلوم ہوتاہے کیونکہ فَتٰی کے لفظ کو جب مضاف بناکراستعمال کیاجائے۔اس کے معنی بیٹے کے یاماتحت کے ہوتے ہیں۔پس سفر مدین پر یہ الفاظ چسپاں نہیں ہوسکتے۔اوراس کے سوااورکوئی سفر ان کابائیبل سے ثابت نہیں۔لہٰذااسے کشف ہی مانناپڑے گا۔(۳)بعثت کے بعد بھی حضرت موسیٰ کاکوئی ایساسفر ثابت نہیں جو انہوں نے اپنی قوم سے علیحدہ ہوکر کیاہو۔بائیبل میں شروع سے لے کر آخیر تک ان کے واقعات ترتیب کے ساتھ موجود ہیں۔لیکن اس سفرکاکہیں ذکر نہیں