تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 550
صلی اللہ علیہ وسلم کاظہورہو۔اور کچھ عرصہ اسلام ترقی کرے۔پھر دوبارہ انہیں ترقی ملے۔اب اس مضمون کوآسمانی کتب کے حوالہ سے ثابت فرماتا ہے۔یادرکھنا چاہیے کہ جیساکہ میں پہلے بتاآیا ہوں اسلام کے دشمنوں کایہ اعتراض ہے کہ اس سورۃ میں بغیر تعلق کے واقعات جمع کردیئے گئے ہیںاورخود مسلمانوں کے لئے بھی ان واقعات کا اجتماع حیرانی پیداکرنے کاموجب بنا رہاہے۔اورانہوں نے یہ کہہ کر اپنے آپ کوتسلی دی ہے کہ یہود نے کچھ سوالات کئے تھے ان کا جواب اللہ تعالیٰ نے اکٹھاکرکے دےدیاہے۔لیکن جیساکہ ظاہر ہے یہ بات نہیں۔کیونکہ اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق اگر کوئی سوال تھا بھی تو ان دونوں واقعات کے درمیان میں اوپر کی تمثیلات اورپھر حضرت موسیٰ کے اس واقعہ کو جواس رکوع میں بیان ہواہے کیوں رکھ دیاگیاہے۔کم سے کم ان دونوں سوالوں کے جواب اکٹھے رکھے جاتے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ سب مضامین ترتیب سے بیان ہوئے ہیں۔اورہرواقعہ اور تمثیل کو خاص ضرورت سے اپنے اپنے مقام پر رکھا گیا ہے۔چنانچہ اصحاب کہف کے ذکر کے بعد ان تمثیلات کے رکھنے کی حکمت تومیں بتاآیاہوں۔اب میں حضرت موسیٰ کے اس واقعہ کو اس جگہ رکھنے کی وجہ بتاتاہوں۔میں ذکر کرچکاہوں کہ عیسائیوں کی قومی زندگی میں ایک عجیب بات پائی جاتی ہے جس کی کوئی اورمثال کم سے کم مجھے معلوم نہیں۔اور وہ یہ کہ انہیں حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد ایک ترقی کادور ملا۔درمیان میں ا یک اورنبی پیداہوااوراس کی قوم کو ترقی کاایک دورملا۔اس کے بعد پھر مسیحی قوم کی ترقی شروع ہوگئی۔ا س واقعہ کی طرف پہلے تمثیل میں نہر کے لفظ سے اشار ہ کیاگیاتھا۔اب حضرت موسیٰ کے واقعہ کو اس جگہ رکھ کر اس مضمون کوواضح کیاگیاہے اوروہ اس طرح کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ؑ تھے۔جیساکہ استثناء باب ۱۸آیت ۱۸ میں پیشگوئی کی گئی تھی۔کہ’’میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپاکروں گا۔اوراپناکلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔اورجو کچھ میں اُسے حکم دو ںگاوہی وہ ان سے کہے گا‘‘۔آنحضرت ؐ کی مشابہت حضرت موسیٰ ؑسے قرآن کریم میں بھی اس پیشگوئی کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیاگیاہے کہ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا (المزمل :۱۶)سوحضرت موسیٰ کے واقعہ کو مسیحیوں کی ترقی کے دونوں دوروں کے درمیان میں بیان کرکے اس طرف اشارہ کیا گیاہے کہ مثیل موسیٰ ان دونوں دوروں کے درمیان میں پیداہوناضروری تھا۔تااس شبہ کاازالہ کیاجائے کہ اگرمسیحی ترقی کے پہلے دور کے بعد ایک سچانبی آیا تھا توکیوں مسیحی ترقی کادور ختم نہیں ہوگیا۔پس اس دور کاپھر پہلے سے بھی زیادہ زورسے شرو ع