تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 532

عُرُوشٌ۔عُرُوْشٌ عَرْشٌ کی جمع ہے اوراَلْعَرْشُ مِنَ الْبَیْتِ کے معنی ہیں سَقْفُہُ گھر کی چھت (اقرب)پس خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا کے معنی ہوں گے کہ وہ اپنی چھتوں پر گراہواتھا۔تفسیر۔اُحِيْطَ بِثَمَرِهٖ یعنی جونتائج پہلے ان کی محنتوں کے نکلے تھے پھر نہ نکلیں گے۔اوروہ افسوس کرنے لگ جائیں گے کہ اس قدر روپیہ خرچ کرکے جوسامان تیار کئے تھے۔اب کسی کام کے نہیں رہے۔جواقوام دنیوی شان وشوکت پر روپیہ خرچ کرتی ہیں ان کے اند ر تباہی کے وقت سخت حسرت پیداہوتی ہے۔کیونکہ وہی عمارتیں جن پر وہ فخر کرتے تھے۔اب ان کی مرمتیں بھی ان کے لئے مشکل ہوجاتی ہیں۔لیکن جوقومیں اپنے اموال اپنی قوم کی علمی اوراخلاقی ترقی کے لئے خرچ کرتی ہیں۔ان کاخرچ ان کے لئے کبھی حسرت کا موجب نہیں ہوتا۔وَ هِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا کہہ کر بتایا کہ ان میں بڑی بڑی عمارتیں تیارکرنے کامرض ہوگا۔وَ هِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَاباغ کے لئے نہیں آسکتا۔اس وقت ان میں افسوس پیدا ہوگاکہ کیوں شرک کیا اورتوحید کوقبول کرکے اورناصح کی نصیحت کومان کر ہم اس عذاب سے نہ بچ گئے۔خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَامیں ا س طرف بھی اشارہ ہے کہ ان پرایسے عذاب آئیں گے کہ شہر برباد ہوجائیں گے اورعمارتیں گرادی جائیں گی۔وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ يَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ اور(اس وقت )کوئی جماعت بھی اس کے ساتھ نہ ہوئی جواللہ (تعالیٰ)کوچھوڑ کر اس کی مددکرتی۔اورنہ وہ (اس مُنْتَصِرًاؕ۰۰۴۴ کاکوئی )انتقام ہی لے سکا۔حلّ لُغَات۔اَلْفِئَۃُاَلْفِئَۃُ الطَّائِفَۃُ۔گروہ۔اَلْجَمَاعَۃُ۔جماعت (اقرب) مُنْتَصِرٌ۔مُنْتَصِرٌ اِنْتَصَرَ سے اسم فاعل کاصیغہ ہے۔اوراِنْتَصَرَ کے معنی ہیں اِنْتَقَم مِنْہُ اس سے انتقام لیا۔اِنْتَصَرَ عَلَیْہ: اِسْتَظْھَرَ اس پر غالب آیا (اقرب) پس مُنْتَصِرٌ کے معنی ہیں انتقام لینے والا۔تفسیر۔یعنی اس قوم کو مسیح کی تائید پر بہت بھروسہ ہوگا۔لیکن اس دن مسیح بھی ان کی کوئی مدد نہ