تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 531

تفسیر۔اس آیت سے ظاہرہوگیا کہ نھر سے مراد مسیحی باغ کاپانی نہ تھا۔کیونکہ اس آیت کی نسبت فرماتا ہے کہ اس کے باغ کاپانی زمین میں ہی غائب ہوجائے۔اورنہروںکاپانی زمین میں غائب نہیں ہوتا۔بلکہ باہر سے آتاہے۔پس ا ن باغوں کاپانی الگ تھا۔جوان باغوں میں موجود تھا۔اوراس کے زمین میں ہی غائب ہونے کی خبر دی گئی ہے یعنی اس قوم کی اندرونی طاقتیں تبا ہ ہوجائیں گی اوروہ ذہنی قوتیں جو پہلے باغوںکو آباد کرنے کاموجب تھیں۔خشک چشموں کی طرح ہوکر باغ کے اجڑنے کاموجب بن جائیں گی۔وَ اُحِيْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِيْهَا اوراس کے (تمام )پھلو ں کوتباہ کردیاگیا۔اوروہ اس حال میں کہ وہ (یعنی باغ)اپنی ٹٹیوں پر گراہواتھا اس وَ هِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ (مال)پرجو اس نے اس (باغ کی ترقی)کے لئے خرچ کیاتھا اپنے دونوں ہاتھ ملنے لگا اورکہنے لگا(کہ ) اُشْرِكْ بِرَبِّيْۤ اَحَدًا۰۰۴۳ اے کاش میں کسی کو اپنے رب کاشریک نہ بناتا۔حلّ لُغَات۔اُحِیْطُ بِثَمَرِہِ:اُحِیْطَ بِہِ کے معنی ہیں۔دَنَاھَلَاکُہُ۔اس کی ہلاکت کا وقت آپہونچا۔(اقرب) نیز جب محاورہ بولیں۔اَلسَّنَۃُ الْمُجْدِبَۃُ:الشَّدِیْدَۃُ تُحِیْطُ بِالْاَمْوَالِ تواس کے یہ معنی ہوتےہیں تُھْلِکُھَا کہ قحط سالی نےمالو ں کوتباہ کردیا (تاج)پس اُحِيْطَ بِثَمَرِهٖ کے یہ معنی ہوں گے کہ اس کے پھل کوتباہ کر دیا گیا۔اَصْبَحَ یُقَلِّبُ کَفَّیْہِ اَیْ یَتَنَدَّمُ جب اَصْبَحَ یُقلِّبُ کامحاور ہ بولیں تویہ مراد ہوتی ہے کہ وہ نادم ہوگیا(اقرب) خاویۃٌ خَاوِیَۃٌخَوِیَ یَخْوَی یاخَوَی یَخْوِیْ سے اسم فاعل مؤنث کاصیغہ ہے۔خَوَتِ الدَّارُ کے معنی ہیں اَقْوَتْ وَسَقَطَتْ وَتَھَدَّمَتْ مکان اجڑ گیا۔گرگیا منہدم ہوگیا۔خَوِیَتِ الدَّارُ کے معنی ہیں خَلَتْ مِنْ اَھْلِھَا گھر رہنے والوں سے خالی ہوگیا۔(اقرب)