تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 519
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ اورتوان کے سامنے ان دوشخصوںکی حالت بیان کر جن میں سے ایک کوہم نے انگوروں کے دوباغ دیئے تھے مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًاؕ۰۰۳۳ اورانہیں ہم نے کھجوروں کے درختوں سے (ہرطر ف سے)گھیر رکھاتھا۔اورہم نے ان کے درمیا ن کچھ کھیتی( بھی) كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَيْـًٔا١ۙ وَّ پیداکی تھی ان دونوں باغوں نے اپنا (اپنا )پھل (خوب )دیا۔اوراس میں سے کچھ(بھی)کم نہ کیا۔اوران فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ۰۰۳۴ کے درمیان ہم نے ایک نہر جاری کی (ہوئی )تھی۔حلّ لُغَات۔وَاضْرِبْ لَھُمْ مَثَلًا کے معنی ہیں ان کے سامنے مثال بیان کر مزید تشریح کے لئے دیکھو ابراہیم آیت نمبر۲۵۔اَلْمَثَلُ کے معنے ہیں اَلشِّبْہُ وَالنَّظِیْرُ۔مشابہ۔اَلصِّفَۃُ بیان۔اَلْحُجَّۃُ۔دلیل۔یُقَالُ اَقَامَ لَہُ مَثَلًا اَیْ حُـجَّۃً۔اَقَامَ لَہٗ مَثَلًا کہہ کر مثل سے مراد دلیل لیتے ہیں۔اَلْحَدِیْثُ عام بات۔اَلْقَوْلُ السَّائِرُ ضرب المثل اَلْعِبْرَۃُ عبرت۔اَلْاٰیَۃُ۔نشان۔(اقرب) اور ضَرَبَ لَہُ مَثَلًا کے معنے ہیں وصَفَہُ وَقَالَہٗ وَبَیَّنَہٗ مثل کو بیان کیا۔ا ور اچھی طرح سے واضح کیا۔جَنَّتَین جَنَّتَیْنِ جَنَّۃٌ کاتثنیہ ہے مزید تشریح کے لئے دیکھو رعد آیت نمبر۲۴۔اَلْجَنَّۃُ جَنَّ میں سے ہے۔وَاَصْلُ الْجَنِّ سَتْرُ الشَّیْءِ۔جَنَّ کے اصل معنے کسی چیز کو ڈھانپنے کے ہیں۔یُقَالُ جَنَّہٗ اللّیْلُ چنانچہ جَنَّہُ اللَّیْلُ کا محاورہ انہی معنوں میں مستعمل ہے کہ رات نے اس کو ڈھانپ لیا۔وَالْجَنَّۃُ: کُلُّ بُسْتَانٍ ذِیْ شَجَرٍ یَسْترُ بِاَشْجَارِہِ الْاَرْضَ۔اور جنت ہر اس باغ کو کہتے ہیں جس میں کثرت سے درخت ہوں اور وہ درختوں کے جھنڈ سے زمین کو ڈھانپ لے۔وَقَدْ تُسَمَّی الْاَشْجَارُ السَّاتِرَۃُ جَنَّۃٌ اور ڈھانپنے اور چھپانے والے یعنی گھنے درختوں کو بھی جَنَّۃٌ کہتے ہیں۔وَسُمِّیَتِ الْجَنَّۃُ إِمَّا تَشْبِیْہًا بِالْجَنَّۃِ فِی الْاَرْضِ وَاِنْ