تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 520

کَانَ بَیْنَہُمَا بَوْنٌ۔وَاِمَّا لِسَتْرِہِ نِعَمَہَا عَنَّا الْمُشَارَ اِلَیْہِ بِقَوْلِہِ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَااُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ۔اور جنت کو اس لئے جنت کے نام سے پکارا گیا ہے کہ یا تو وہ دنیاوی باغات کے مشابہ ہے اگرچہ ان میں اور اس میں بہت فرق ہے۔یا اس وجہ سے کہ اس کی نعمتیں ہم سے پوشیدہ ہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ میں فرمایا ہے کہ جنت کی نعماء کا کسی کو علم نہیں۔(مفردات) حَفَفْنٰھُمَا۔حَفَفْنَا حَفَّ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے اورحَفَّہُ الْقَوْمُ وَبِہِ وَحَوَاِلیْہِ کے معنی ہیں اَحْدَقُوْابِہِ وَ اَطَافُوْ اَوِاسْتَدَارُوْا لوگوں نے اسے ہر طرف سے گھیرلیا اوراس کے اردگردحلقہ بنالیا (اقرب) پس حَفَفْنٰھُمَا کے معنی ہوں گے کہ ان دونوں کو ہم نے گھیر رکھاتھا۔وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْہُ شَيْـًٔا۔تَظْلِمُ ظَلَمَ سے واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔اورظَلَمَ فُلَانًا حَقَّہ کے معنے ہیں نَقَّصَہُ اِیَّاہُ اسے اس کے حق سے کم دیا۔اورلَمْ تَظْلِمْ مِنْہُ شَيْـًٔا کے معنی ہیں۔لَمْ تَنْقُصْ۔کہ اس نے کچھ بھی کم نہ دیا(اقرب) تفسیر۔بعض نے کہاہے کہ اس آیت میں کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔لیکن اکثرمفسرین کاخیال ہے کہ یہ ایک مثال ہے۔جنہوں نے اس کوواقعہ کہاہے ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ دوآدمی یہود میں سے تھے۔اور بعض نے کہاہے کہ عرب میں سے تھے (القرطبی و فتح البیان زیر آیت ھذا)۔لیکن دو باغ کی حیثیت والا کوئی آدمی اس رتبہ کانہیں سمجھاجاسکتا۔جس کا ذکر تاریخ میں کیاجائے۔یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ یاتویہ تسلیم کیاجائے کہ اس قسم کے فخریہ کلمات دنیا میں اور کوئی شخص نہیں کہتا۔بس اسی شخص نے کہے تھے۔اوریایہ تسلیم کیاجائے۔کہ اس زمانہ میں دنیا بھر میں کوئی درخت نہ تھے بس ایک اس شخص کے دوباغ تھے۔اس لئے اس کے واقعہ کوتاریخ میں محفوظ رکھا گیا۔اس مثال کی تفصیل سے معلو م ہوتاہے کہ اس سے ہمیں کچھ سمجھانامقصود ہے۔ورنہ اس کے بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔میراخیال ہے کہ الہامی کتابوں میں جب کوئی ایسی مثال ہو جوادبی نہ ہو بلکہ اس میں کسی باریک مضمون کی طرف اشارہ ہو تواس کی حقیقت معلوم کرنے کابہترین ذریعہ یہی ہے۔کہ اپنی عقل سے کام لینے کی بجائے ہم تعبیر رویا کے علم سے مدد لیں کیونکہ خواب بھی ایک تمثیلی زبان ہے اورضروری ہے کہ دونوں قسم کی تمثیلیں جن کامنبع ایک ہے آپس میں مشابہت رکھتی ہوں۔