تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 515
لالچوں کی وجہ سے اس بظاہر حقیر نظرآنے والی جماعت کوحقیر مت جاننا اوران لوگوں کی پیروی نہ کرنا جوذکر الٰہی اورتبلیغ سے غافل ہوںگے اورڈنڈے کے زورسے ان قوموں کو سیدھاکرناچاہیں گے اورافراط و تفریط کی مرض اور سیاسیات کی ہواوہوس میں مبتلاہوں گے۔اس آیت میں اس طر ف بھی توجہ دلائی ہے کہ اس زمانہ میں تین باتیں مسلمانوں کے مصائب کاموجب ہوں گی۔ایک تو لوگ عبادت سے غافل ہوجائیں گے عبادت کی طرف توجہ نہ رہے گی۔دوسری بات یہ ہے کہ لوگوں کے دل میں دنیا کے اموال کی محبت بڑھ جائے گی تیسری بات یہ ہےکہ عیش وعشرت کابڑازور ہوگا۔ایسے وقت میں مومن کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ عبادت میں مشغول رہے اورمال کی طرف رغبت نہ کرے اوراپنی جائزضروریات پوری کرکے باقی حصہ مال کا دین کی اشاعت میں خرچ کرے۔وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ اور(لوگوںکو)کہہ دے(کہ)یہ سچائی تیرے ر ب کی طرف سے ہی (نازل ہوئی)ہے پس جوچاہے (اس پر ) فَلْيَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ ایمان لائے اورجوچاہے (اس کا )انکار کرد ے (مگریہ یاد رکھے کہ )ہم نے ظالموںکے لئے یقیناً ایک آگ تیار سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ يَّسْتَغِيْثُوْا۠ يُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ کی ہے جس کی چار دیوار ی نے (اب بھی)انہیں گھیراہواہے۔اوراگر وہ فریاد کریں گے توایسے پانی سے ان کی يَشْوِي الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا۰۰۳۰ فریادرسی کی جائے گی جوپگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا (اور)چہروں کوجھلس دےگا۔و ہ بہت بُری پینے کی چیز ہوگی۔اوروہ (یعنی آگ)بُراٹھکانا ہے۔حل لغات۔سُـرَادِقٌ سُـرَادِقٌکے معنے ہیں (۱)وہ سائبان جوصحن پر لگایا جاتا ہے(۲)پردہ یاقنات یاخیمہ کے چاروں طرف کا پردہ (۳)کپڑے کاخیمہ (۴)غبار(۵)دھوئیں کابگولہ (اقرب)