تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 514

لَاتَعْدُ:لَاتَعْدُ عَدَا(یَعْدُ وْعَدْوًا)سے نہی مخاطب کاصیغہ ہے اورعَدَی فُلَانًا عَنِ الْاَمْرِ کے معنے ہیں صَـرَفَہٗ وَشَغَلَہٗ۔اس کو کسی کام سے ہٹایا اورروکے رکھا۔عَدَاالْاَمْرَ وَعَنِ الْاَمْرِ جَاوَزَہٗ وَتَرَکَہٗ۔کسی کام کوترک کردیا اورچھو ڑ دیا۔(اقرب) اَغْفَلْنَا اَغْفَلْنَااَغْفَلَ سے جمع متکلم کا صیغہ ہے اوراَغْفَلَ الشَّیْءُ بِمَعْنٰی غَفَلَ عَنْہُ(تَرَکَہُ وَسَھَا عَنْہُ)کسی چیز کو ترک کردیا۔اوراسے بھو ل گیا۔(اقرب) اَلْھَویٰ۔اَلْھَوٰی اِرَادَ ۃُالنَّفْسِ۔نفس کااراد ہ خواہش۔اَلْعِشْقُ یَکُوْ نُ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِِّّ۔کسی عمدہ یابری چیز کی خواہش کی شدت۔اَلْمَھْوِیُّ مَحْمُوْدًا کَانَ اَوْمَذْمُوْمًاثُمَّ غَلَبَ عَلٰی غَیْرِ الْمَحْمُوْدِ۔جس سے محبت کی جائے خواہ وہ محبوب پسندید ہ ہو یا ناپسندیدہ۔لیکن آہستہ آہستہ اس کااستعمال بر ے معنوں میں ہونے لگ گیا ہے۔اورجب فُلَانٌ اتَّبَعَ ھَوَاہُ کامحاور ہ بولتے ہیں تواس کےمعنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگارہا۔اوریہ بول کر مذمت مقصود ہوتی ہے۔(اقرب) فُرُطًا اَلْفُرُطُ:اَلظُّلْمُ وَالْاِعْتِدَاءُ۔ظلم اورزیادتی۔اَلْاَمْرُ الْمُجَاوَزُفِیْہِ عَنِ الْحَدِّ۔حداور انتہاء سے بڑھا ہوا اَلْاَمْرُالْمَتْرُوْکُ۔چھوڑاہواکام۔جیسے کہتے ہیں۔كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا۔وَقِیْلَ اِسْرَافًا وَ تَضْیِیْعًا۔اور بعض نے فرط کے معنے اسراف او رتضییع کے کئے ہیں(اقرب) تفسیر۔اس آیت کا مخاطب ہر پڑھنے والا ہے نہ کہ آنحضرت صلعم اس آیت نے اوپر کے معنوں کو اورواضح کردیاہے۔اس آیت کے مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں۔بلکہ قرآن کریم کے پڑھنے والے وہ شخص ہیں جن کواس زمانہ کے دیکھنے کاموقعہ ملے۔ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو خود نمازیں پڑھایا کرتے تھے۔ان کو کس طرح کہا جاسکتاتھاکہ جو صبح و شام نمازیں پڑھ رہے ہیں توان کے ساتھ رہ۔اصل میں یہاں یہ بتایا ہے کہ مسیحی اقوام کی ترقی کے وقت ایک ایسی جماعت ہوگی جو اسلام پر قائم ہوگی اوران کے ساتھ لوگوںکوملنے کاحکم دیاگیاہے۔اس آیت کے مخاطب یقیناً وہ مسلمان ہیں جواس زمانہ میں اسلام کی ترقی کو سیاسی اسباب کے ساتھ وابستہ قرار دیتے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس غلطی میں مبتلانہ ہونا بلکہ ان لوگوں کے ساتھ شامل ہوجانا جوصبح شام نمازوں میں دعائیں کررہے ہوں گے اوراللہ تعالیٰ کے فضل کو دعائوں کے ذریعہ سے بلارہے ہوں گے۔پھر فرماتا ہے اس نمازی جماعت سے اپنی نظر یں ہٹاکراو ر طرف نہ لے جانا کیونکہ گودنیا کی زینت اوراس کی ترقی کے سامان ان سے باہر ملیں گے لیکن اس میں خدا تعالیٰ کی رضاتوحاصل نہ ہوگی۔پس دنیاوی