تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 512

کی ہے۔ا ن میں کچھ سابق کے واقعات ہیں اور کچھ اصحاب کہف کے قائم مقاموں اوران کی آئندہ نسل کے متعلق پیشگوئیا ں ہیں۔ایک اوررنگ میں بھی یہ آیات پیشگوئیوں پر مشتمل ہیں۔اورو ہ اس طرح کہ جیساکہ میں بتاچکا ہوں اس قصہ کے بتانے میں یہ بھی حکمت ہے کہ ایسے ہی واقعات مسلمانوں کے ایک حصہ کو بھی پیش آنے والے ہیں۔یعنی ان کوبھی اللہ تعالیٰ کے کلام پر ایمان لانے کی وجہ سے تکالیف دی جانے والی ہیں۔چنانچہ اس کی تصدیق حضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے آپ فرماتے ہیں قَالَ رَسُو لُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اَصْحَابُ الْکَھْفِ اَعْوَانُ الْمَھْدِیِّ (درمنثور زیر آیت الکہف ۹۔۱۲بحوالہ ابن مردویہ)یعنی اصحاب کہف مہد ی کے مرید اوراس پر ایما ن لانے والے لوگ ہیں۔اب ا س کے یہ معنے نہیں کہ پہلے کوئی اصحاب کہف نہیں گذرے۔کیونکہ خود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اصحاب کہف کی ہڈیاں تک دیکھی ہیں (جیسا کہ اوپر روایت گذر چکی ہے )بلکہ اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ اصحاب کہف کاسامعاملہ مہد ی پرایمان لانے والوں سے بھی گذرے گااوران کو بھی خداکے کلام پر ایمان لانے کی وجہ سے تکالیف دی جائیں گی۔وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ اوراپنے آپ کوان لوگوں کے ساتھ رکھ جو اپنے رب کو اس کی خوشنودی چاہتے ہوئے صبح و شام الْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِيْدُ پکارتے ہیں اورورلی زندگی کی زینت چاہتے ہوئے تیری آنکھیں ان سے آگے نہ بڑھیں۔زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ اورجس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیاہو اوراس نے اپنی گری ہوئی خواہش کی پیروی اختیارکی ہو ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا۰۰۲۹ اوراس کامعاملہ حد سے بڑھا ہواہواس کی فرمانبرداری مت کر۔حل لغات۔اِصْبِرْ وَاصْبِرْ صَبَرَ سے امر کاصیغہ ہے۔اورصَبَرَ نَفْسَہُ عَلَی کَذَاکے معنے ہیں