تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 511

تحقیق نے ان کی غلطی ثابت بھی کردی۔اگرکہا جائے کہ اس جگہ قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا آیاہے اس سے توپتہ لگتاہے کہ پہلی بات غلط تھی اس کاجوا ب یہ ہے کہ اگرپہلاقو ل لوگوں کاہوتاتوا س فقرہ سے اس کی تردید نکلتی۔لیکن پہلی آیت میں چونکہ کفار کاقول نقل نہیں کیا بلکہ بغیر ان کے حوالہ کے زمانہ بتایا ہے اس لئے اس جملہ سے تردید نہیں نکلے گی بلکہ تاکید نکلے گی اورمطلب یہ ہوگا کہ اس زمانہ کے بارہ میں لوگ اختلاف کریںگے مگروہ غلطی پر ہوں گے صحیح زمانہ یہی ہے۔اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ۔وہ خو ب دیکھنے والا اورسننے والا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کابیان درست ہے دوسروں کانہیں۔نیزان الفاظ سے اس طرف اشار ہ کیا ہے کہ انسانوں کے حالات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتاہے جب تک انسان شرک سے پاک رہیں وہ ان کی مددکرتاہے جب شرک میں مبتلاہوجائیںاللہ تعالیٰ کی نصرت جاتی رہتی ہے۔وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ اورتیرے رب کی کتاب میں سے جو(حصہ)تجھ پروحی (کے ذریعہ سے نازل)ہوتاہے اسے پڑھ(کرلوگوں لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا۰۰۲۸ کو سنا )اس کی باتوں کو کوئی بھی تبدیل کرسکنے والانہیں ہے اوراسے چھو ڑکر توکوئی پناہ کی جگہ نہیں پائےگا۔حل لغات۔اُتْلُ اُتْلُ تَلَایَتْلُوْسے امر کاصیغہ ہے اورتَلَاالْکَلَامَ تِلَاوَۃً کے معنے ہیں قَرَأَہٗ۔اس کو پڑھا (اقرب)پس اُتْلُ کے معنے ہیں پڑھ۔المُلْتَحَدُ اَلمُلْتَحَدُ: اَلْمَلْجَأُ۔پنا ہ گاہ (اقرب) تفسیر۔اصحاب کہف کا واقعہ بطور پیشگوئی ہے اس آیت میں یہ مضمون آکر کھو ل دیاکہ اس واقعہ کوہم بطورقصہ نہیں بیا ن کررہے بلکہ اسی طرح تیری امت کے ساتھ بھی ہونےوالا ہے۔اوریہ بھی کہ جومضمون اوپر بیان ہواہے اس کے بعض حصے پیشگوئی کے طورپر ہیںاوربعض اخبار صادقہ ہیں۔اس مضمون کااشارہ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ کے الفاظ سے نکلتاہے۔اگریہ پیشگوئی نہ ہوتی تویہ کیوں فرماتاکہ خدا کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا۔سابق کے واقعات کے بدلنے یانہ بدلنے کاتوکوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔پس اس آیت نے میری اوپرکی تفسیر کی تصدیق کردی ہے اوراس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنہوں نے اوپرکی آیات کو صرف ماضی کاایک واقعہ سمجھا ہے انہوں نے غلطی