تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 513
حَبَسَھَا۔نفس کو کسی بات پر روکے رکھا (اقرب) مزید تشریح کے لئے دیکھو رعد۲۳ صَبْرٌ کے معنے ہیں تَرْکُ الشِّکْوٰی مِنْ اَلَمِ الْبَلْوٰی لِغَیْرِاللہِ لَا اِلَی اللہِ کہ مصیبت کے دکھ کا شکویٰ خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کے پاس نہ کرنا۔فَاِذَا دَعَا اللہَ الْعَبْدُ فِیْ کَشْفِ الضُّرِّ عَنْہُ لَا یُقْدَحُ فِیْ صَبْرِہٖ۔اگر بندہ اپنی رفع مصیبت کے لئے خدا تعالیٰ کے پاس فریاد کرے تو اس کے صبر پر اعتراض نہ کیا جائے گا۔وَقَالَ فِی الْکُلِّیَّاتِ اَلصَّبْرُ فِی الْمُصِیْبَۃِ۔اور کلیات میں لکھا ہے کہ صبر مصیبت کے وقت ہوتا ہے۔وَصَبَرَ الرَّجُلُ عَلَی الْاَمْرِ نَقِیْضُ جَزِعَ اَیْ جَرُؤَ وَشَجُعَ وَتَجَلَّدَ اور صبر جزع یعنی شکویٰ کرنے اور گھبرانے کے مقابل کا لفظ ہے اور صبر کے معنے ہوتے ہیں دلیری دکھائی۔جرأت دکھائی۔ہمت دکھائی۔اور صَبَرَ عَنِ الشَّیْءِ کے معنے ہیں اَمْسَکَ عَنْہُ کسی چیز سے رکا رہا۔اَلدَّابَۃَ حَبَسَہَا بِلَاعَلَفٍ۔اور صبر کا مفعول دابۃ ہو تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ جانور کو بغیر چارہ دینے کے روکے رکھا۔صَبَرْتُ نَفْسِیْ عَلٰی کَذَا کے معنے ہیں میں نے اپنے نفس کو کسی چیز پر قائم رکھا یا کسی چیز سے روکے رکھا۔چنانچہ انہی معنوں میں صَبَرْتُ عَلَی مَااَکْرَہٗ وَصَبَرْتُ عَمَّا اُحِبُّ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے کہ تکلیف دہ حالت پر میں نے نفس کو استقلال سے قائم رکھا اور پسندیدہ امور سے نفس کو باز رکھا۔گویا صبر کے تین معنے ہوئے گناہ سے بچنا اور اپنے نفس کو اس سے روکے رکھنا۔(۲)نیک اعمال پر استقلال سے قائم رہنا۔(۳)جزع فزع سے بچنا۔(اقرب) الغَدٰوۃ اَلْغَدَاۃُ کے معنے صبح۔صبح کی نماز سے لے کر سورج کے طلوع ہونے تک کا وقت۔اس کی جمع غُدُوٌّہے۔مزید تشریح کے لئے دیکھو رعدآیت نمبر ۱۶ اَلْغَدَاۃُ :اَلْبُکْرَۃُ صبح اَوْمَابَیْنَ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَطُلُوْعِ الشَّمْسِ صبح کی نماز سے لے کر سورج کے طلوع ہونے تک کا وقت اس کی جمع غدو ہے۔(اقرب) العشيّ۔اَلْعَشِیُّ: اٰخِرُ النَّھَارِ وَقِیْلَ مِنْ صَلوٰۃِ الْمَغْرِبِ اِلی الْعَتَمَۃُ۔دن کے آخری حصہ کو عشی کہتے ہیں بعض کے نزدیک مغرب سے عشاتک کا وقت عشیّ کا ہے(اقرب) الوجہُ۔اَلْوَجْہُ :نَفْسُ الشَّیْءِ۔خود وہی چیز۔اَلْوَجْہُ مِنَ الدَّھْرِ:اَوَّلُہٗ۔زمانہ کی ابتداء۔سَیِّدُ الْقَوْمِ۔قوم کاسردار۔اَلْجَاہُ۔عزت۔اَلْـجِھَۃُ۔طرف۔مَایَتَوَجَّہُ اِلَیْہِ الْاِنْسَانُ مِنْ عَمَلٍ وَغَیْرِہ۔مطمح نظر۔الْقَصْدُ وَالنِّیَّۃُ۔قصداور ارادہ۔اَلْمَرْضَاۃُ۔رضامندی (اقرب)