تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 488

ہیں ضِدُّ الْبَاطِلِ سچ۔اَلْاَمْرُ الْمَقْضِیُّ فیصلہ شدہ بات۔اَلْعَدْلُ۔عدل۔اَلْمِلْکُ۔ملکیت۔اَلْمَوْجُودُ الثَّابِتُ۔موجود و قائم۔اَلْیَقِیْنُ بَعْدَ الشَّکِّ۔یقین۔المَوْتُ۔موت الحَزْمُ دانائی۔(اقرب) تفسیر۔نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِِّّ۔یعنی ہم تیرے سامنے ان کے واقعات جس طرح ہوئے ہیں اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ا س سے معلو م ہوتاہے کہ جوپرانے قصے تھے وہ صحیح نہ تھے۔اوریہ بھی پتہ لگاکہ اس وقت کچھ قصے ان کے متعلق ضرور مشہور تھے۔اس امر کاثبو ت کہ ان کے بارہ میں کچھ قصے ضرور مشہو رتھے پہلی آیات سے بھی ملتاہے۔کیونکہ قرآنی واقعہ تواس آیت سے شروع ہوتاہے۔اس سے پہلے جوبیان کیاگیا تھا معلوم ہوتاہے وہ اس وقت کی مشہور روایتوں کاصحیح خلاصہ تھا۔فتًی کے معنے اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ۔وہ نوجوانوں یا شریف اورسخی لوگوں کی ایک جماعت تھی جواپنے رب پر ایمان لائی فَتًی کے معنے سخی۔شریف۔لوگوں کے لئے مال خرچ کرنے والا۔یانوجوان کے ہیں (اقرب)۔کیونکہ دینی کاموں میں نوجوان ہی زیادہ حصہ لیتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لانے والے سوائے چند کے باقی سب آپ سے عمر میں کم تھے۔وَ زِدْنٰهُمْ هُدًى۔اورہم نے ہدایت میں ان کو زیادہ کردیاتھا۔یعنی ان کی قربانیوںکی وجہ سے ہم نے ان کے ایمانوں کو بہت بڑھادیاتھا۔اِنَّهُمْ فِتْيَةٌمیں خاص پارٹی کا ذکر فِتْیَۃٌ سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ مختلف پناہ لینے والی پارٹیوں میں سے کسی خاص پارٹی کا جوسب سے زیاد ہ قربانی کرنے والی تھی۔اس جگہ ذکر کیا گیا ہو۔اوریہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس آیت میں کسی خاص جماعت کا ذکر نہ ہو۔بلکہ یہ مراد ہو کہ شریف مسیحی جواپنے دین میں پکے ہوتے تھے۔ایسا کیاکرتے تھے۔اورا س طرح اس آیت میں تین سوسال کے عرصہ میں جس قدر لوگوں نے قربانیاں کی تھیں۔سب ہی کا ذکر ہو۔میں ذاتی طورپر ان آخری معنوں کوترجیح دیتاہوں۔