تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 487
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ اٰمَنُوْا ہم ان کی اہم خبر بالکل صحیح طور پر تیرے پاس بیان کرتے ہیں۔وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر (حقیقی)ایما ن بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ۰۰۱۴ لائے تھے اورانہیں ہم نے ہدایت میں (اوربھی )بڑھایاتھا۔حلّ لُغَات۔نَقُصُّ۔نَقُصُّ قَصََّّ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے۔اس کے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر۴۔قَصَّ یَقُصُّ قَصًّا وقَصَصًا اَثَرَہُ: تَتَبَّعَہُ شَیْئًا بَعْدَ شَیْءٍ۔اس کا نشان تلاش کرتے ہوئے اس کے پیچھے گیا۔وَمِنْہُ فَارْتَدَّا عَلَی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا۔اَیْ رَجَعَا فِی الطَّرِیْقِ الَّتِیْ سَلَکَا ھَا یَقُصَّانِ الْاثرَ۔اور انہی معنوں میں قرآن کریم کی آیت فَارْتَدَّاعَلَی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔قَصَّ عَلَیْہِ الْخَبَرَ وَالرُّؤْیَا: حَدَّثَ بِھِمَا عَلٰی وَجْھِھِمَا بات کو بے کم و کاست بیان کیا۔ٹھیک طور پر بیان کیا۔وَمِنْہُ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ۔اَیْ نُبَیِّنُ لَکَ اَحْسَنَ الْبَیَانِ۔اور انہی معنوں میں سورہ یوسف کی آیت نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ میں یہ لفظ آیا ہے۔یعنی ہم تیرے سامنے ٹھیک ٹھیک بات بیان کرتے ہیں۔(اقرب) نَبَاٌ نَبَاٌکے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر۳۸۔نَبَّأَہُ الْخَبْرَ وَبِالْخَبْرِ: خَبَّرَہٗ۔خبر دی۔آگاہ کیا۔ویُقَالُ نَبَّأْتُ زَیْدًا عَمْرًا مُنْطلِقًا۔بتایا۔علم دیا۔النَّبَأُ: اَلْخَبَرُ۔خبر۔وَقَالَ فِی الْکُلِّیَاتِ النَّبَأُ وَالْاَنْبَاءُ لَمْ یَرِدَا فِی الْقُرْاٰنِ اِلَّا لِمَا لہٗ وَقْعٌ وشأْنٌ عَظِیْمٌ۔اور کلیات ابوالبقاء میں ہے کہنبأ کا لفظ یا انباء کا لفظ جہاں بھی قرآن کریم میں آیا ہے کسی ذی عظمت اور ذی شان چیز یا بات کی خبر کے متعلق ہی آیا ہے۔(اقرب) اَلْحَقُّ کے لئے دیکھو رعد آیت نمبر۱۵۔اَلْحَقُّ۔حقَّ کا مصدر ہے۔اور حَقَّہٗ حَقًّا کے معنے ہیں غَلَبَہٗ عَلَی الْحَقّ۔حق کی وجہ سے اس پر غالب آیا۔وَالْاَمْرَ: اَثْبَتَہٗ وَاَوْجَبَہٗ۔کسی امر کو ثابت کیا اور واجب کیا۔کَانَ عَلٰی یَقِیْنٍ مِنْہٗ۔کسی معاملہ پر یقین سے قائم تھا۔اَلْخَبَرَ: وَقَفَ عَلٰی حَقِیْقَتِہِ اور حَقَّ الْخَبَر کے معنے ہوں گے اس کی حقیقت سے آگاہ ہوا اور الحقُّ کے معنے