تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 489

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ اورجب و ہ(اپنے وطن سے نکلنے کے لئے )اٹھے توہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا تب انہوں نے (ایک وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا دوسرے سے )کہا (کہ)ہمارارب (و ہ ہے جو )آسمانوں اورزمین کا(بھی)رب ہے ہم ا س کے سواکسی اور معبودکو شَطَطًا۰۰۱۵ ہرگز (کبھی )نہیں پکاریں گے ورنہ ہم ایک حق سے دور بات کہنے والے ہوں گے۔حلّ لُغَا ت۔رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ رَبَطَ الشَّیْءَ (یَرْبِطُ وَیَرْبُطُ )کے معنے ہیں۔اَوْثَقَہٗ وَ شَدَّہٗ۔کسی چیز کو مضبوط طور پر باندھ دیا۔رَبَطَ جَاْشُہٗ(رَبَاطَۃً)کے معنے ہیں: اِشْتدَّ قَلْبُہٗ اس کادل مضبوط ہوگیا۔رَبَطَ اللہُ عَلٰی قَلْبِہٖ :صَبَّرَہٗ۔اللہ نے مصائب کے برداشت کی اسے طاقت دی اورقدم نہ لڑکھڑانے دیا۔(اقرب) شَطَطًا:شَطَّ(شَطَطًا)کے معنے ہیں :جَارَ۔ظلم کیا۔اَفْرَطَ۔زیادتی کی۔شَطَطَ فِی سِلْعَتِہٖ شَطَطًا۔جَاوَزَالْقَدْرَ الْمَحْدُوْدَ اپنے سامان میں مقرراندازہ سے بڑھ گیا۔تَبَاعَدَ عَنِ الْحَقِِّّ۔حق سے دور ہوگیا۔شطَّ فِی السَّوْمِ:غَالَی فِی الثَّمَن۔قیمت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔نیز شَطَطٌ کے معنے ہیں مُجَاوَزَۃُ القَدْرِ وَالْحَدِّ۔حداوراندازہ سے آگے گذرجانا (اقرب) تفسیر۔باوجود اس کے کہ بادشاہ اوررعایا سب ہی ان کے مخالف تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کوطاقت دی اورصبر بخشا۔اورو ہ سب کے مقابل پر کھڑے ہوکر اپنے عقیدہ کااظہار کرتے رہے۔هٰؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا يَاْتُوْنَ ان لوگوں نے یعنی ہماری قوم نے اس (معبودبر حق )کوچھوڑ کر (اپنے لئے )اور(اور)معبود بنالئے ہیں وہ ان کے عَلَيْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَيِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى ثبوت میں کیوںکوئی روشن دلیل نہیں لاتے۔پھر (و ہ کیوں نہیں سمجھتے کہ )جوشخص اللہ (تعالیٰ )پر جھوٹ باندھے