تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 486

تھی۔اور وہیں ان لوگوں کوقتل کردیتی تھی۔میں نے ایسے شہداء کی بہت سی قبریں وہاں دیکھی ہیں۔ہم نے بعض کتبے پادری سے پڑ ھواکر معلوم کیا۔کہ ان میں وہ درد ناک واقعات بیان کئے گئے ہیںجو شہادت کے وقت ان کو پیش آتے تھے۔قریب زمانہ میں جو نئی قبریں اور کتبے دریافت ہوئے ہیں۔ا ن میں ان لوگوں کی قبریں بھی ملی ہیں جن کے پاس پطرس ٹھیرے تھے یاجن کابائبل میں ذکر ہے۔(انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ کیٹاکومبز) ڈسیس کے وقت میں چونکہ قانون بنادیاگیا تھا کہ مسیحی بتوں کو سجدہ کر نے پر مجبورکئے جائیں اوربہت سختی سے مسیحیوں کو ماراجاتا تھا۔یہ زمانہ قریباً ساراکاساراعیسائیوں نے کیٹاکومبز میں گذارا۔سوائے ان کے جنہوں نے ڈر کر مذہب کو ظاہر اً خیر بادکہہ دیا۔اس لئے اس زمانہ میں اصحاب کہف نے ایک نہایت شاندا رمثال قربانی کی پیش کی تھی۔کیٹاکومبز کے کتبوں سے جن حالات کا پتہ ملتا ہے ان کتبوں سے جوکیٹاکومبز میں لگے ہوئے ہیں۔معلوم ہوتاہے کہ اس وقت مسیحیوں میں شرک نہ تھا۔ان کتبوں میں کوئی لفظ شرک کا نہیں۔مسیح کو خدا کابیٹا نہیں بلکہ محض ایک گڈریے کی شکل میں دکھایا جاتاہے۔ان کی والدہ کے لئے کوئی غیر معمولی عزت کا نشان نہیں ملتا۔زیاد ہ تریونس نبی کے واقعہ کو اور حضرت نوح کے طوفان کے آخر میں جو کبوتر اس بات کی خبرلایا تھا کہ پانی ہٹ کرزمین ننگی ہوگئی ہے اس واقعہ کوتصویروں میں دکھا یا جاتا ہے۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ عہد نامہ قدیم کو ان لوگوں نے نہیں چھوڑاتھا اور مسیح کوصرف ایک نبی اور روحانی گڈریا خیال کرتے تھے (کیٹاکومبز کے واقعات کے لئے دیکھو انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا۔دی کٹاکومبزایٹ روم مصنفہ بنجمین سکاٹ اورڈاکٹر میٹ لینڈ کی کتاب وغیرہ) خلاصہ یہ کہ اصحاب کہف کے واقعہ میں مسیحیوں کے ابتدائی زمانہ کے حالات کو پیش کیا گیا ہے اوربتایا ہے کہ مسیحی قوم کی ابتداء تواس طرح ہوئی تھی کہ وہ بت پرستی کے خلاف جہاد کرتے تھے اورشرک سے بچنے کے لئے انہوں نے صدیوں تک بڑی بڑی قربانیا ں کیں۔لیکن انتہاء ا س طرح ہوئی ہے کہ اصلی دین کاکوئی نشان بھی اب مسیحیوں میں نہیں پایاجاتا۔