تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 480

سوسال پہلے بنا تھا۔یعنی اس کی تعمیر کا وقت زیادہ سے زیادہ آٹھویں صدی مسیحی کے آخرمیں تجویز کیا جاسکتا ہے اوران کاغذات میں بھی اس روایت کاکوئی ذکر نہیں۔اس لئے تحقیقات کے بعد انگریز مؤرخو ں نے لکھا ہے کہ ’’بہرحال یہ تاریخی واقعہ نہیں ہاںایک شاعرانہ خیال ضرور ہے‘‘(انسائیکلوپیڈیا برٹینیکازیر لفظ Joseph do qrimathea) ان معمولی اختلافات کے اظہار کے بعد جو صر ف افراد اور ابتدائی مقام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جہاں تک اصحاب کہف کا تعلق گذرے ہوئے واقعات سے ہے۔ان کے بارہ میں حضرت مولوی صاحب ؓ کی تحقیق ایک ایسی شمع ہدایت ہے جس کی قیمت کا انداز ہ نہیں لگایا جاسکتا۔او ر بغیر اس روشنی کے جو انہوں نے اس مضمون پر ڈالی ہے یہ حصہ قرآن کریم کا تاریخی طورپر حل نہیں ہوسکتا تھا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء اصحاب کہف کے واقعات میں حضرت مسیح موعود کے لئے پیشگوئی ہے میںجو تشریح آگے بیان کروں گاوہ جزئی اختلاف کو چھو ڑ کر مقام اورقوم اورزمانہ کے سواایک حد تک حضرت مولوی صاحب کی تحقیق پر مبنی ہوگی۔ہاں ایک حصہ جو ان آیا ت کے اصل مقصد کے ساتھ وابستہ ہے آپ کی تحقیق سے باہر رہ گیا تھا اس کی طرف ہم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ احمد یہ نے توجہ دلائی ہے اورو ہ یہ کہ اس پیشگوئی میں مسیح موعود کے دوبار ہ نزول کے متعلق خبریں ہیں اورمسلمانوں کوبتایاہے کہ ویسے ہی حالات آئندہ زمانہ میں مسلمانوںکی ایک جماعت کوبھی پیش آنے والے ہیں (الحکم ۱۰؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ کالم ۲)۔اصحاب کہف کے متعلق اپنی تحقیق ان تمہیدوں کے بعد میں اب اصحاب کہف کے بارہ میں اپنی تحقیق بیان کرتاہوں میں نے جب یہ دیکھا کہ یوسف آرمیتیا کاواقعہ ایک قصہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔تومیں نے اصحاب کہف کے بارہ میں مزید تحقیق شروع کی۔اس تحقیق کے دوران میں میرے خسر ڈاکٹرخلیفہ رشیدالدین صاحب مرحوم ایک کتاب میرے پاس لائے اورکہا کہ اس کتا ب میں جوواقعا ت بیا ن ہوئے ہیں وہ اصحاب کہف کے واقعات سے ملتے ہیں۔اس کتاب کانا م روم کے کیٹاکومبز CATACOMBS OF ROME تھا۔میں نے وہ کتاب لے کر پڑھی اورمیری بھی یہ رائے ہوئی کہ اس میں بیان کردہ روایات پر اصحاب کہف کی تحقیق کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔اس کتاب کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیحی ابتدائی زمانہ میں مشرک نہ تھے اوراس کاثبوت اس نے یہ پیش کیا ہے کہ روم کے پاس ایسے غارملے ہیںجن میں ابتدائی زمانہ میں مسیحی لوگ رومی حکومت کے ظلم سے بچنے کےلئے چھپ جایاکرتے تھے۔وہاںبہت سے کتبے پائے گئے ہیں جن میں اس وقت کے حالات ہیں۔اوران سے معلوم ہوتاہے کہ شروع عیسائیت میں شرک کا نام نہ تھا۔اوروہ لوگ مسیح علیہ السلام کو صرف ایک نجات دہندہ نبی سمجھتے تھے۔