تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 479
اس نے خود لکھا اس واقعہ کا ذکر نہیں بلکہ یہ لکھا ہے کہ معتبر روایات سے معلوم ہوتاہے کہ انگلستا ن کے ایک بادشاہ لوسیئس (LUCUIS)کے کہنے پر پوپ نے ۱۶۶ ء میں ایک تبلیغی مشن انگلستان بھجوایاتھا جس نے یہ گرجا بنایا۔ساتھ ہی ا س میں یہ بھی لکھاہے کہ ایک روایت اس گرجے کو اس سے بھی پہلے کابتاتی ہے۔مگرمیںاس روایت کی تصدیق نہیں کرسکتا۔ولیم کے مرنے کے بعد اس کی ایک کتاب کو دوبار ہ لکھوایاگیاتواس میں اوپر والاواقعہ درج کردیاگیا۔گویایہ واقعہ ولیم کے بعداس کتا ب میں کسی اورنے لکھ دیاہے اوراس کی سند ا س نے کوئی نہیں دی۔یہ جوکہف کالفظ قرآن کریم میں آتاہے ا س کے متعلق حضرت مولوی صاحب ؓ کاخیال تھا کہ اس سے مراد وہ (CAPE)ہے جوگلاسٹنبری کے پاس ساحل پر ہے جہاں تک کیپ کے لفظ کاتعلق ہے میرے نزدیک آپ کی رائے درست نہیں کیونکہ کیپ انگریزی کا لفظ فرانسیسی لفظCAP اورلاطینی CAPUTE سے بناہے جن کے معنے سرکے ہیں۔اورخشکی کاایک حصہ جس کی نوک سمندرمیںآگے نکلی ہوئی ہو اسے کیپ (CAPE )کہتے ہیں۔لیکن عربی لفظ کہف کے معنے وسیع غار کے ہیں۔جو پہاڑی جگہ پر ہو یا پتھریلی زمین میں ہواوراسے کیپ سے جسے عربی جغرافیہ نویس رأس کے لفظ سے یاد کرتے ہیں۔(جیسے ہندوستان کی ایک کیپ کانام رأس کماری ہے )دورکابھی کوئی تعلق نہیں۔میرے نزدیک جس حد تک اصحاب کہف کے واقعہ کاتعلق یوسف آرمیتیا کے سفر سے ہے۔میں اس کے متعلق بھی آپ کی تحقیق سے متفق نہیں۔کیونکہ یوسف آرمیتیا کایہ سفر محض کہانی کی طورپر انگلستان میں مشہور رہاہے۔اور سوا گیارہ سوسال بعد مسیح اس کا ذکر پہلی دفعہ ولیم کی کتاب میں ملتاہے اوروہ بھی ایک نامعلوم شخص نے اس کی موت کے بعد اس کتاب میں لکھ دیاہے۔ایسے اہم امور کے متعلق تو ایک صد ی کی خاموشی بھی شبہ ڈال دیتی ہے۔کجا یہ کہ ایک ہزار سال تک دنیا میں اس بار ہ میں کوئی روایت نہ ہو اورہزار سال کے بعد جاکر یہ روایت لکھی جائے۔اگر آج کوئی شخص ایک نئی روایت جو کتب احادیث اورتاریخ میں موجود نہ ہو۔لوگوں کی زبانی روایات پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان کرے تو ایک شخص بھی اسے تسلیم کرنے کو تیارنہیں ہوگا۔جب تک کہ کوئی ایسے تاریخی شواہد اس کی تائید میں نہ ملیں جواس واقعہ کو دوسرے ثابت شد ہ واقعات کی کڑی میں اس طرح پرودیں کہ انکار کی گنجائش نہ رہے۔نیز اہل انگلستان جن کو اس قسم کی روایات پر فخر ہونا چاہیے اورایسی جھوٹی روایتوںکو بھی سچا بنا نا ا ن کے فائدہ کا موجب ہے وہ بھی تحقیق کرکے ان امو رکوغلط قراردے چکے ہیں۔چنانچہ ولیم آف مالمسبری کے بعد اس گرجا کے قدیم کاغذات ملے ہیں جن کوپڑھ کر یہ نتیجہ نکالاگیاہے کہ یہ گرجا اس وقت سے زیادہ سے زیادہ تین ساڑھے تین