تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 419

کرنے لگے کہ یہ بعل سفلی دنیا کاسردار ہے۔اوراس سے تعلق پیداکرکے کفار لوگ معجزات دکھاتے ہیں۔(انجیل کے مذکورہ بالا حوالہ جات نیز انسائیکلو پیڈیا ببلیکا نیز جوئش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ بیل زبو ل Beelzebul)اس کے برخلاف جو روحانی طاقتیں بزعم خود و ہ آپ حاصل کرتے تھے انہیں اسم اعظم کا نتیجہ بتاتے تھے۔اوراس جادوکو جائز جادو سمجھتے تھے۔جوئش انسائیکلوپیڈیا میں لکھاہے۔کہ مسیح سے کم سے کم تین سوسال پہلے سے اسم اعظم کارواج یہود میں پایا جاتاہے۔اسم اعظم کی طرف توجہ حضرت داؤد کے زمانہ سے ہوئی ( میں بتاچکا ہوں کہ میری تحقیق میں حضرت دائود کے زمانہ سے ان میں یہ خیال پیداہوچکاتھا۔حضرت سلیمان کے زمانہ میں اورترقی کرگیا )۔و ہ اسم اعظم کی نسبت یہ مشہورکرتے تھے۔کہ وہ نہ بولاجاسکنے والانام ہے (جوئش انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ Names of God ) یہود میں جوجادوگر تھے۔وہ اس کانام خاص طور پر اشاروں میں لکھتے تھے۔یہ لوگ خصوصاً مصر میں پائے جاتے تھے۔(حوالہ متذکرہ بالا) سیاہ جادو اور سفید جادو کی تشریح یہود کاخیال تھا کہ سیاہ جادواورسفید جادودونوں حق ہیں۔سیاہ جادو شیطانوں سے تعلق کی وجہ سے حاصل ہوتاہے۔اورسفید جادواسماء الٰہی سے تعلق کی وجہ سے۔سیاہ جادومنع ہے۔اورسفید جادو جائز ہے۔لکھا ہے کہ علماء یہود سیاہ جادو کے مخالف تھے۔مگر سیا ہ جادوکامقابلہ کرنے کے لئے وہ سفید جادو کے استعمال میں ہرج نہ دیکھتے تھے۔علماء یہود میں(بقول ان کے)اس جادو کے ذریعہ سے اس قدر طاقت پیداہوجاتی تھی۔کہ وہ ایک نظر ڈال کر دشمن کو بھسم کردیتے تھے۔یااسے ہڈیوں کاایک ڈھانچہ بنادیتے تھے۔بیماروں کواچھا کرتے تھے۔ان امورکاان میںاس قدر رواج تھا کہ یونانی اوررومی لوگ یہود کوجادوگرکہاکرتے تھے۔(جوئش انسائیکلوپیڈیا زیرلفظ میجک یعنی جادو جلد ۸) اس کے علاوہ یہود کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ مردہ ارواح سے تعلق پیداکرکے غیب کے علوم معلوم کئے جاسکتے ہیں۔چنانچہ تورات میں بھی اس کا ذکر ہے اوراس سے منع کیاگیا ہے۔استثناء باب ۱۸۔۱۱میں بھی ا س کا ذکر آتاہے۔اوراوربہت سی آیات میں بھی۔اسی طرح یسعیا ہ باب ۸۔۱۹میں بھی ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جوارواح سے تعلق پید اکرکے غیب کاحال معلوم کرتے تھے۔اوران سے تعلق پیداکرنامنع کیا گیا ہے۔یسعیاہ کہتے ہیں کہ جب لوگ تجھے ایسے لوگوں سے تعلق پیداکرنے کو کہیں توان سے کہہ کہ’’کیازندوں کی نسبت مردوں سے سوال کریں ‘‘۔جوئش انسائیکلوپیڈیا میں لکھا ہے بنی اسرائیل نے غالباًیہ فن ایرانیوں سے سیکھاتھا۔اوران میں کثر ت سے اس