تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 418
قوت کے متعلق ہی دلائل بیا ن کرتی ہیں۔اس سورۃ میں بھی یہی بیان کیاگیاہے کہ جب تک یہود کلام الہی سے وابستہ رہے ترقی کرتے رہے جب انہوں نے کلام الٰہی کو چھو ڑ دیا۔توان پرعذاب نازل ہوا۔یہود چونکہ اپنے خیال میں یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم پر سبت کی بے حرمتی کی وجہ سے عذاب آیا ہے انہیں یہ مسئلہ عجیب معلوم ہوا بلکہ برابھی لگا۔خصوصاً اس لئے کہ عیسائی لوگ مسیح کوکلمۃ اللہ کے نام سے موسوم کرتے تھے۔پس یہ الفا ظ کہ خدائی کلام کے انکار کی وجہ سے ان پر عذاب آیا۔انہیں بہت دکھ دیتے تھے۔جھوٹے تصوف کی طرف رجحان کلام الٰہی کے بند ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ادھر یہود میں ایک اورنقص بھی پیداہوگیاتھا۔جو مایو س اقوا م میں عام طور پر پیداہو جایا کرتا ہے۔اوروہ یہ کہ جب وہ کلام الہی سے محروم ہوگئے۔اورنبوت کاسلسلہ ان میں بند ہوگیا۔تووہ جھوٹے تصوف کی طرف راغب ہوگئے۔اورخاص خاص مشقوں کے ذریعہ سے بزعم خود اپنی روحانی قوتوں کے بڑھانے میں مشغول ہوگئے۔کوئی توذکر اذکار کے ذریعہ سے اپنی قوتوںکو بڑھاتا۔اور کوئی اسم اعظم کوقابو میں لاکر اپنی روحانیت کو ترقی دیتاتھا۔اوریہ سب لوگ خیال کرتے تھے کہ جو کمی وحی الٰہی کے نہ آنے سے پیداہوگئی تھی۔وہ ا س طرح انہوں نے دور کرلی ہے۔یہ مرض حضرت دائود کے زمانہ سے پیداہوئی اور حضرت مسیح کے نزول کے وقت تک بہت ترقی کرگئی۔ان کاخیال تھا کہ ارواح کوقابو میں لاکر یااپنی روح کوجلادے کر انسان بہت بڑے بڑے معجزات دکھا سکتاہے۔اورعلوم غیبیہ کوپاسکتا ہے۔یہود کے نزدیک روح کی دو قسمیں اسم اعظم اور بعل سے متعلق اوروہ اس علم کو دوحصوں میں تقسیم کرتے تھے ایک جائز علم جسے وہ اسم اعظم سے وابستہ کرتے تھے۔اورایک ناجائز جسے وہ بعل سے تعلق کا نتیجہ بتاتے تھے۔چنانچہ جب حضرت مسیح علیہ السلام نے دعویٰ کیا اورمعجزات دکھائے توانہوں نے ان کے معجزات کی یہی تشریح کی۔کہ اس کابعل کے ساتھ تعلق ہے۔چنانچہ اس کا ذکر انجیل میں ان لفاظ میں آتاہے۔’’فقیہہ جو یروشلم سے آئے تھے یہ کہتے تھے کہ اس کے ساتھ بعلز بول ہے۔اوریہ بھی کہ وہ بدروحوں کے سردارکی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے۔وہ انہیں پاس بلاکر تمثیلوں میں ان سے کہنے لگا۔شیطان کو شیطان کس طرح نکال سکتا ہے۔‘‘(مرقس باب ۳آیت ۲۲۔۲۳) (یہی ذکر متی باب ۹آیت ۳۴و باب۱۰۔۲۵۔لوقاباب ۱۱۔۱۵ اوریوحنا باب ۷۔۲۰ اورباب ۸۔۴۸۔۵۲ وباب ۱۰۔۲۰میں بھی آتاہے )بعل زبویا بعل زبول یابعل زبوب درحقیقت ایک ہمسایہ قوم کادیوتا تھا۔چونکہ اس کی نسبت لوگوں میں معجزات مشہور تھے۔یہو د میں جب جادوکاخیال پیداہواتووہ اس کے متعلق یہ خیال