تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 420

کارواج پایاجاتاتھا۔(جلد ۹زیر لفظ نیکرومنسی یعنی علم الارواح Necromancy)خلاصہ یہ کہ یہود کاعقیدہ تھا کہ ارواح سے تعلق پیداکرکے غیب کے علوم دریافت کئے جاسکتے ہیں۔اورگوان کواس سے منع کیا گیا تھا۔مگر پھر بھی وہ کثرت سے ا س علم کوسیکھتے اوراس پر عمل کرتے تھے۔موجودہ زمانہ میں بھی اس کابہت رواج ہے۔یورپ میں اس علم والوں کو سپر چولسٹ کہتے ہیں۔یعنی روحانیین تھیا سوفیکل سوسائٹی کی بنا ہی اس علم پر ہے۔موجودہ تھیاسوفی کی بانی مسز اینی بسنٹ کایہ عقید ہ تھا۔کہ ارواح سے وہ بہت کچھ سیکھتی ہیں۔اوروہ اس کے ماتحت غیب کی خبریں بھی بتاتی تھیں۔چنانچہ بزعم خود انہوں نے ا س علم سے کام لے کر ایک بڑے اوتار کے آنے کی خبر دی تھی۔جس کی نسبت ان کاخیال تھا کہ کرشنا مورتی اس کامصداق ہے(انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس زیر لفظ Theosophy)۔ا ب یہ نوجوان جوتعلیم دیتاہے۔وہ قریباًدہریت کی تعلیم ہے۔گزشتہ جنگ یورپ میں جب بہت سے گھرانوں کے نوجوان مارے گئے۔اس کی طرف خاص توجہ ہوگئی۔اورسرکینن ڈائل مشہور مصنف نے اپنی آخری عمراپنے ایک لڑکے کی یاد میں اس علم میں گزاردی۔مشہور ادیب اورسیاستدان ڈبلیو ٹی سٹڈ بھی اسی خیال کے تھے۔اورانہوں نے اپنے تجربوں کی کتاب بھی شائع کی ہے۔مشہور سائنسدا ن سرآلیورلاج بھی آخری عمر میں اس عقید ہ کے ہوگئے تھے۔کہ ارواح سے تعلق پیدا کیاجاسکتاہے اورانہوں نے بھی کئی کتب اس بار ہ میںلکھی ہیں(کینن ڈائل صفحہ ۱۴۰۔۱۵۰ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ لاج Lodge)۔ہندوؤں کا یوگا علم الارواح ہندوئوں میں یوگاکے نام سے یہ علم رائج ہے۔اوران کے ایک شاسترمیں جسے پتنجلی کایوگ شاستر کہتے ہیں اس مضمو ن پرخاص بحث کی گئی ہے (انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس زیر لفظ یوگا Yoga)۔مسلمان صوفیاء نے بھی تنز ل کے زمانہ میں اس علم کی طرف توجہ کی۔اورعلم اشراق اورحاضرات وغیرہ کے نام سے بہت کچھ رطب و یابس اس پر لکھاہے اورکہاہے اوراس نام نہاد علم کو استعمال کیاہے (التبیان فی مسائل السلوک والاحسان المعروف بدلائل السلوک صفحہ ۱۵۱۔۱۶۹)۔خلاصہ یہ کہ علم الارواح ایک قدیم علم ہے۔اوریہود میں اس کاخاص رواج تھا۔خصوصاً جب ان کاتعلق دین سے کم ہوااورالہام کادروازہ بند ہواتووہ اس کی طرف بہت متوجہ ہوگئے۔حضرت مسیح ناصر ی کے وقت میں ان میں اس کا رواج بہت بڑھا ہوا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح کے وقت میں ایک فرقہ یہود کا اسینیوں کے نام سے تھا۔جن کی نسبت انجیل میں فریسیوںکے لفظ سے اشارہ کیاگیاہے۔