تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 417
واضح نہیں جس قد رکہ کلام الہی کامراد لینا۔اس لئے اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت استاذ ی المکرم کاقول زیادہ واضح اورموقعہ کے مناسب ہے۔حضرت مسیح موعود ؑ کے نزدیک الروح میں روح انسانی کی طرف اشارہ ہے میں ایک عرصہ تک انہی معنوں پر حصر کیاکرتاتھا۔مگر جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کی بعض تحریرات کو غو ر سے پڑھا۔تومجھے اپنے خیا ل میں کچھ تبدیلی کر نی پڑی۔اورتسلیم کرناپڑ ا کہ روح انسانی کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے۔او ران معنوں سے آیت کامضمون بہت وسیع اوربہت لطیف ہو جاتا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی خلق دوطرح کی ہے۔(۱)ابتدائی خلق جو بغیر مادہ کے ہوتی ہے۔(۲)بعد کی خلق جوپہلے سے پیداکئے ہوئے مادہ سے ہوتی ہے۔جس خلق میں اللہ تعالیٰ دنیوی اسباب سے کام لیتا ہے۔یعنی ایسے ذرائع کواستعمال کرتا ہے۔جوکسی چیز کی پیدائش سے پہلے موجود ہوں۔اس کانام خلق رکھا جاتا ہے۔اورجس چیز کو اللہ تعالیٰ بغیر ان ذرائع کے جوپہلے سے موجود ہو ںپیداکرتاہے اس کانام امر رکھا جاتاہے۔جس کی طرف کُنْ فَیَکُوْن کےا لفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے اس آیت میں اسی قسم کی تخلیق کے متعلق جواب دیاگیا ہے۔جواذن الہی سے ہوتی ہے۔آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کوئی آریہ اس پر اعتراض کرےگااور میرے مقا بل آئے گا تومیں ایک رسالہ لکھوں گا جس میں بتائوں گاکہ قرآن کریم نے روح کے اندر کیاکیاقوتیں اورطاقتیں بیان فرمائی ہیں (سرمہ چشمہ آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۳۳)۔مگر افسوس کہ کوئی آریہ مقابل پر نہ آیا۔اورہم اس قیمتی خزانہ سے محروم رہ گئے۔جو ہم کومفت میں ملنے والاتھا۔مگرپھر بھی آپ کی بعض کتب سے رہنما ئی حاصل کرکے ہم ایک کافی علم اس بار ہ میں حاصل کرتے ہیں۔اورشاید اللہ تعالیٰ نے بقیہ علم کو کسی حکمت کے ماتحت کسی اورزمانہ کے لئے محفوظ رکھ چھوڑاہو۔اب میں ان معنوں کی بناء پر جو بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے کئے ہیں۔اس آیت کی تشریح اپنی سمجھ کے مطابق کرتاہوں۔اورمجھے یقین ہے کہ جو شخص بھی تعصب سے خالی ہوکر ان معنو ں پرغورکرے گا۔و ہ محسوس کرے گاکہ اس آیت میں یہود کے سوال کو بے جواب نہیں چھوڑاگیا بلکہ اس کانہایت لطیف اور مسکت جواب دیا گیا ہے۔اس جواب سے یہ بھی معلوم ہوجائے گاکہ جن لوگوں نے اس جگہ روح کے معنی کلام الہی کے کئے ہیں۔یاقرآن کریم کے کئے ہیں۔انہوں نے بھی غلطی نہیں کی۔بلکہ صداقت ہی کو بیان کیاہے۔بات یہ ہے کہ پہلی آیات میں قرآن کریم کی فضیلت اوراس کی ضرورت کوبیان کیاگیا تھا۔بلکہ پہلی دوسورتوں میںتواسی مضمون پر سارازور تھا۔سورۃ حجر اورسورۃ نحل جیسا کہ میں ثابت کرآیا ہوں۔قرآن کریم کی طاقت اوراس کی