تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 416

انہوں نے یہود سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر کیا ورکہا کہ اس طر ح پر ایک مدعی نبوت ہم میں کھڑاہواہے ہم اس سے کیا سوال کریں۔جس سے اس کاجھوٹ کھل جائے۔انہوں نے جواب دیا کہ روح اوراصحاب کہف اورذوالقرنین کے متعلق اس سے سوال کرو۔اس پر ان لو گوں نے مکہ میں واپس آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا۔اوریہ آیت نازل ہوئی (روح المعانی زیر آیت ھذا)۔یہ آیت مکی ہے میرے نزدیک پہلی دفعہ سوال مکہ میںہی ہواہے۔اور وہیں اس کا جواب ملا ہے۔ممکن ہے مدینہ میں بھی یہود نے سوال کیا ہو۔بلکہ اغلب ہے کیونکہ جب یہود کی انگیخت سے یہ سوال ہوا تھا توانہوں نے بھی ضروریہ سوال کیا ہو گا۔مگر یہ درست نہیں کہ دوبار ہ یہ آیت اتری۔بلکہ جب مدینہ میں یہ سوال ہواہوگا۔تورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ آیت جواب میں پڑھ دی ہوگی۔اس واقعہ کو کسی راوی نے بیا ن کیا۔اوربعد کے راویوں میں سے کسی نے سمجھ لیاکہ شائد اس سوال کے جواب میں یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی تھی۔سوال کی حقیقت بیان کرنے کے بعد میں جواب کو لیتاہوں۔مفسرین لکھتے ہیں۔کہ اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق سوالوں کے جواب تواللہ تعالیٰ نے تفصیلاً دیئے۔اوراس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ روح خداکے حکم سے ہوتی ہے۔اور تم کواس بارہ میں بہت ناقص علم دیا گیا ہے۔اس لئے تم اس کی حقیقت کونہیں سمجھ سکتے۔اس لئے ہم تفصیل سے جواب نہیں دیتے اس پر یہود شرمندہ اورخاموش ہوگئے (روح المعانی زیر آیت ھذا)۔اس جواب پر آریہ مصنفین نے بہت اعتراض کئے ہیں۔اورلکھاہے کہ اس جواب سے یہود کوشرمند ہ ہونے کی کیاضرورت تھی۔کونسا مدلل و مسکت جواب دیا گیا تھا کہ وہ شرمند ہ ہوجاتے (کلیات آریہ مسافر تکذیب براہین احمدیہ صفحہ ۷ )۔حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کے نزدیک روح سے مراد جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں۔استاذی المکر م حضرت مولوی نورالدین صاحب اس کے یہ معنی کرتے تھے۔کہ روح سے مراد اس جگہ کلام الٰہی ہے۔اورجواب یہ دیاگیاہے کہ کلام الٰہی حکم الہی سے نازل ہوتاہے۔اوراس کی ضرورت یہ ہے کہ تم کو بہت کم علم دیا گیا ہے۔پس انسانی علم کے ناقص ہونے کی صورت میں ضروری تھاکہ اللہ تعالیٰ انسان کے علم کو روحانیت کے بارہ میں مکمل کرتا۔سو اس ضرورت کے ماتحت اس نے اپنا کلام نازل کیاہے۔جیسا کہ میں بحر محیط کے حوالہ سے اوپر لکھ آیاہو ں پر انے مفسروں میں سے بھی بعض نے روح سے قرآن کریم مراد لیا ہے (البحرالمحیط زیر آیت ھذا)۔اوران کی تفسیر حضرت استاذی المکرم کی تفسیر سے ملتی ہے۔لیکن جیساکہ ظاہر ہے کہ روح سے صرف قرآ ن کریم مراد لینا اس قدر