تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 415
مفسرین نے اس کی مختلف تاویلیں کی ہیں بعض نے اس سے جبرائیل مراد لیا۔اوربعض نے اس سے مراد قرآ ن کریم کو لیا ہے۔کیونکہ اس سے پہلے بھی اوربعد میں بھی قرآن کریم کا ذکر ہے (بحر محیط زیر آیت ھذا)بعض نے وہ فرشتہ مراد لیا ہے جس کے سپرد دنیا کی پیدائش ہے۔بعض نے کہا ہے کہ ہر ایک فرشتہ کوروح کہتے ہیں۔اوربعض کے نزدیک ایک خاص فرشتہ ہے۔جس کو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی تسبیح کے لئے پیدا کیا ہے بعض نے تواس روایت کو صحابہ رضوان اللہ علیہم تک پہونچایا ہے کہ اس کے سوسر ہیں۔ہرایک سر میں سو مونہہ ہیں۔اورہرایک مونہہ میں سوزبان ہے۔اور ہرایک زبان سوسوبولی میں خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے(تفسیر ابن جریر زیر آیت ھذا)۔انہوں نے غالباً اس روایت کو بیان کرکے سمجھ لیا ہے کہ شاید اس طرح خدا کی تسبیح کاحق پوراہوجائے گا۔حالانکہ اس تسبیح سے زیادہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت ہی اللہ تعالیٰ کی تعریف کررہی ہے۔سار ی دنیا میں مسلمان پھیلے ہوئے ہیں۔ہزاورں بولیا ں بولتے ہیں۔اورہرزبان میں آپ کی تعریف کررہے ہیں۔استاذی المکر م حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ اس جگہ روح کے معنی کلام الٰہی کیاکرتے تھے (تصدیق براہین احمدیہ جلد ۱ صفحہ ۱۱۵)اوریہ معنی اوپر کے تمام معنوں سے اچھے ہیں اورزیاد ہ صحیح ہیں۔کیونکہ اس سے پہلے اوراس آیت کے بعد بھی قرآن کریم کاہی ذکر ہے۔حضرت مسیح موعود کے نزدیک اس جگہ روح سے مراد روح انسانی ہے مگرحضرت مسیح موعودؑ بانی سلسلہ احمدیہ نے نہایت وضاحت سے اس آیت پر بحث کی ہے۔اوراس کے معنی انسانی روح ہی کے لئے ہیں۔اور فرمایا ہے کہ اس آیت میں روح کے متعلق بہت بڑے معارف بیان کئے گئے ہیں (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۵۹)۔اس آیت میں جو یہ فرمایا ہے کہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ روح کیا ہے۔اس کے متعلق احادیث میں مختلف روایات آتی ہیں۔بعض میں تولکھا ہے۔کہ یہ سوال یہود نے مدینہ میں کیاتھا(ترمذی ابواب التفسیر باب سورۃ بنی اسرائیل)۔مگر اس کے خلاف یہ بات پیش کی جاتی ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے۔اس کا جواب وہ لو گ یہ دیتے ہیں کہ اس سورۃ کی بعض آیتیں مدنی ہیں (مگر جیساکہ میں اوپر بیان کرآیا ہوں یہ درست نہیں )۔بعض نے کہا ہے کہ یہ سوال پہلے مکہ میں ہواتھا۔اورپھر دوبارہ مدینہ میں ہوا(مسند احمد مسند عبداللہ بن مسعودؓ و عبد اللہ بن عباسؓ)عبداللہ بن مسعودؓکی روایت ہے کہ یہ سوال مدینہ میں ہواتھا(ترمذی ابواب التفسیر باب سورۃ بنی اسرائیل)۔اورعجیب بات یہ ہے کہ وہی اس بات کے راوی ہیں۔کہ یہ سورۃ مکی ہے(قرطبی)۔اس کا جواب بعض علماء نے یہ دیاہے کہ یہی سوا ل دوبار ہ پھر مدینہ میں ہواہوگا۔جولوگ اس کومکہ کی روایت قراردیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مکہ کے بعض لوگ مدینہ گئے تھے۔اوروہاں جاکر