تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 410

دوسرے معنی اس آیت کے یہ بھی ہوسکتے ہیں۔کہ دخول سے مراد آپ کادوبار ہ مکہ میں واپس آنا ہے۔اورخروج سے مراد آپ کی ہجرت ہے۔اس صورت میں بھی ترتیب کے متعلق اعتراض پڑے گا۔کہ ہجرت پہلے تھی۔اورفتح مکہ بعد میں۔لیکن اس کابھی وہی جواب ہے۔جوپہلے بیان ہوا۔کہ مکہ سے نکلنے کے صدمہ کو اس خبر سے کم کردیا۔کہ آپ پھر مکہ میں آنے والے ہیں۔اوراس کے بعد مکہ سے نکلنے کا ذکر کیا۔تاتسلی پہلے ہوجائے۔اورغم کی خبر بعد میں بتائی جائے۔اس صورت میں مقام محمود کے معنی یہ ہوں گے کہ فتح مکہ کے بعد دشمنوں کے سب اعتراضات دورہوجائیں گے۔اورعربوں پر آپ کی سچائی ظاہرہوجائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔سُلْطَانًا نَصِیْرًا مجھے اپنے پاس سے ایساغلبہ دے۔جو کہ نصیر ہو۔یعنی وہ میرے کاموں میں میراممدو معاو ن ہو مضر نہ ہو کیونکہ بعض غلبے انسان کے لئے بجائے فائدہ پہنچانے کے نقصا ن دہ ثابت ہوتے ہیں۔یعنی مجھے غلبہ توملے۔مگر ایسانہ ہو جس کاانجا م میرے کاموں کی تباہی ہو۔ٍ یہ دعااسراء کے ان معنوں کی تائید کرتی ہے۔جو میں اوپر بیا ن کرچکا ہوں اوراس سے معلو م ہوتا ہے کہ اسراء کے کشف کی ایک تعبیر مدینہ کی طرف ہجر ت کرنا تھی۔وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ اور(سب لوگوں سے )کہہ دے (کہ بس اب )حق آگیا ہے۔اورباطل بھاگ گیا ہے اورباطل توہے ہی بھاگ زَهُوْقًا۰۰۸۲ جانے والا۔حلّ لُغَات۔زھق۔زَھَقَ الْبَاطِلُ کے معنےہیں۔اِضْمَحَلَّ۔باطل کمزور ہوگیا۔الشَّیْءُ: بَطَلَ وَ ھَلَکَ۔کوئی چیز بے اثر ہوگئی مٹ گئی (اقرب) تفسیر۔اس میں یہ اشارہ کیاگیا ہے۔کہ مدنی زندگی کے شرو ع ہونے کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طاقت مضبوط ہوتی۔اوربڑھتی جائے گی۔اوردشمن کی کمزوری اورضعف و ناتوانی کے سامان پیدا ہوتے جائیں گے۔یہاں تک کہ آخر باطل کمزورپڑتے پڑتے فناہوجائے گا۔اورمکہ کی فتح کے وقت عرب سے بت پرستی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیاجائے گا۔