تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 409
ہے۔یاوَ اجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ۔(الشعراء:۸۶ ) مجھے ظاہر و باطن طور پر اچھی تعریف حاصل ہو۔یعنی میرا ذکر خیر کے ساتھ صرف لوگوں کی زبان پر ہی نہ ہو بلکہ واقع میں بھی میرے نیک کام دنیا میں قائم رہیں۔اور میری تعریف جھوٹی نہ ہو یعنی لوگ غلو کرکے مجھ سے شرک نہ کرنے لگ جائیں۔یا فرمایا ہے کہ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ مجھے اس طرح کا داخلہ عطا ہو جو ظاہر و باطن میں اچھا ہو اور میں اس طرح اپنے شہر سے نکلوں کہ جو ظاہر و باطن میں اچھا ہو۔یعنی اس میں بزدلی اور کمزوری ایمان کا کوئی شائبہ نہ ہو۔اورا س کے نتائج نہایت اعلیٰ ہوں۔پس مُدْخَلَ صِدْقٍ کے معنے ہوںگے ظاھراً وباطناً اچھے طورپر داخل کرنا۔تفسیر۔صِدْقٍ کے معنی بتائے جاچکے ہیں یعنی اندرونی وبیرونی دونوں حالتیں یکساں طور سے اچھی ہوں اس آیت میں دعااور انابت کے جواب میں جومقام محمود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوملنے والے تھے۔ان میں سے پہلے مقام محمود کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اب تجھے اسراء کی خبر کے ماتحت مکہ سے نکال کر ہم ایک اورجگہ کی طرف جو مقام محمود ہے لے جائیں گے۔اس لئے اس کے متعلق ابھی سے دعائیں شرو ع کردے۔اورکہہ کہ اے خدامجھے اس شہر میں ظاہری او رباطنی خوبیوں کے ساتھ داخل کر او راس مقام سے بھی جس میں میں اس وقت ہوں یعنی مکہ سے ظاہری اورباطنی خوبیوں کے ساتھ نکال یعنی کفار جواراد ہ کررہے ہیں۔کہ مجھے ذلت سے نکالیں۔جس سے میرارعب اور اثر جاتا رہے۔اس میں وہ کامیاب نہ ہوں۔چنانچہ یہ دونوں دعائیں قبول ہوئیں۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کفار اپنی مرضی کے مطابق نہ نکا ل سکے بلکہ خدا تعالیٰ کے علم دینے سے آپ خو د ہی مناسب موقعہ پر مکہ سے ہجرت کرگئے۔اسی طرح آپ کادخول مقام محمود میں بھی نہایت اعلیٰ ہوا۔اللہ تعالیٰ نے وہاں آپ کی شمع رخ کے ہزارو ں پروانے پیداکردیئے۔جو آپ کےمونہہ کی طرف ہروقت دیکھتے رہتے تھے۔اورجن کو آپ سے وہ عشق تھا۔کہ اس عشق کی نظیر دنیا میں اورکہیں نہیں ملتی۔ان معنوں پر ایک اعترا ض ہو سکتا ہے اوروہ یہ کہ خروج مکہ پہلے ہواہے۔اوردخول مدینہ بعد میں۔پھر قرآن کریم نے دخول کو پہلے کیوں بیا ن فرمایا۔اس کا جواب یہ ہے کہ خروج کی خبر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو لازما ً تکلیف ہونی تھی۔اوریہ خیال پیداہوناتھا کہ مکہ سے نکل کر ہم کہاں جائیں گے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی محبت کی وجہ سے اس امر کاپہلے ذکر فرمایاکہ عنقریب تجھ کوایک مبارک مقام ملنے والا ہے اورمکہ سے نکلنے کے ذکر کو اس کے بعد رکھا۔تاکہ تسلی پہلے مل جائے اورغم کی خبر بعد میں ملے۔