تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 401
نازل نہ ہوا۔فرمایا ٹھیک ہے قرآن یکدم نازل نہیں ہوااوراس کی غرض یہ ہے کہ ہم اپنے رسول کے دل کو مضبوط کریں اورقرآن کریم کو آہستہ آہستہ ناز ل کرکے اس کے دل کے گوشوں میں رچادیں۔ان آیات سے معلوم ہوتاہے کہ تثبیت کاذریعہ کلام الٰہی کانزول ہے۔پس لَوْلَااَنْ ثَبَّتْنَاکَ کے معنے یہ ہوں گے کہ اگرقرآن ناز ل کرکے ہم نے تیرے دل کو ایمان پر ثبا ت نہ بخشاہوتا توممکن تھا کہ توکچھ تھوڑاسا ان کی طرف جھکتا۔آنحضرت ؐ کسی وقت بھی کفار کی طرف مائل نہیں ہو سکتے اس تشریح کے بعد یہ امر آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اس آیت میں یہ ذکر نہیں کہ قرآن کریم کے نزول کے بعد آپ کفار کی طرف مائل ہوسکتے تھے۔بلکہ بتایایہ گیاہے کہ قرآن کے نزول کے بعد توتیراان کی کوئی بات مانناناممکن ہے۔اگرقرآن نہ بھی ناز ل ہواہوتا اور اللہ تعالیٰ کے منشاء کا کامل علم تجھے نہ ہوتاتب بھی تیری فطرت اتنی پاک تھی کہ مشرکانہ باتوں میں توان کے ساتھ شریک نہ ہوسکتا تھا۔ہاںممکن تھاکہ وحی کی روشنی کے نہ ہونے کے سبب سے بعض چھوٹی چھوٹی باتوں میں توان کے طریق پر عمل کرلیتا۔پس یہ آیت توانتہائی مدح کے مقام پر ہے اوراس میں یہ بتایا ہے کہ بغیر قرآن کے بھی کفار محمد رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ساتھ کامل اتفاق کی امید نہیں کرسکتے تھے۔پھر قرآن کے نزول کے بعد وہ ایسی امید کیونکر رکھتے ہیں۔اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ اوراگر (جیساکہ ان کاخیال ہے توہم پر افتراء باندھنے والاہوتا)تواس صورت میں ہم تجھے زندگی کابڑاعذاب لَكَ عَلَيْنَا نَصِيْرًا۰۰۷۶ اورموت کا بڑاعذا ب چکھاتے (اور )پھر توہمارے مقابل پر اپناکوئی (بھی )مددگارنہ پاتا۔حلّ لُغَات۔ضِعْفُ الْحَیٰوۃِ ضِعْفُ الْحیٰوۃِ وَضِعْفُ الْمَمَاتِ عربی میں کبھی درمیا نی مضاف الیہ کو حذف کرکے دوسرے مضاف الیہ کی طرف مضاف کی اضافت پھیر دیتے ہیں اس قانو ن کے مطابق یہاں ضِعْفُ عَذَابِ الْحَیٰوۃِ اورضِعْفُ عَذَابِ الْمَمَاتِ کے جملو ں کو درمیانی مضاف الیہ کو مخذو ف کرکے ضِعْفُ الْحَیٰوۃِ اورضِعْفُ الْمَمَاتِ کی صورت میں بدل دیاگیا ہے(اعراب القرآن للدرویش) نیز ضعف کسی چیز کی مثل یااس سے دگنی یاتگنی وغیر ہ کوکہتے ہیں۔کم سے کم ایک مثل اورزیاد ہ خواہ کتنے گنے ہو۔چونکہ اردومیں اس کاترجمہ نہیں