تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 396

لَمْ يَخِرُّوْا عَلَيْهَا صُمًّا وَّ عُمْيَانًا(الفرقان :۷۴)یعنی مومن وہ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے ان کے رب کی آیات کا ذکر کیا جائے تو و ہ ان کی طرف بہرے اوراندھے ہوکر توجہ نہیں کرتے بلکہ کان اورآنکھیں کھو ل کر اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنتے ہیں۔اس آیت میں ان کوبھی اندھا کہا ہے جوکسی بات کو بغیر تحقیق کے مان لیتے ہیں۔پھر فرمایا ہے وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى (طٰہٰ:۲۵)یعنی کسی شخص کاآیات سے منہ پھیرناہی اس کااندھاہوناہے۔غرض اعمٰی و ہ ہے جوحقیقت اوران بصائر کو جوخدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔نہ دیکھے توایساشخص وہاںبھی خدا تعالیٰ کادیدار نہ کرسکے گااوراندھا رہے گا۔کیونکہ اس نے دنیا میں اپنی مرضی سے اپنے لئے اندھا ہونا پسند کیاتھا۔اس آیت کایہ مطلب نہیں کہ دنیاوی اندھے اگلے جہا ن میں بھی اندھے ہوں گے جسمانی نقص توبعث بعد الموت کے وقت سب کے سب دور ہوجائیں گے۔کیونکہ پہلاجسم ہی یہاں رہ جائے گا۔پس اس سے مراد روحانی اندھاپن ہے۔وَ اِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ۠ عَنِ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ اورقریب تھا کہ وہ اس (کلام )کی وجہ سے جوہم نے تجھ پر وحی سے نازل کیا ہے تجھے (سخت سے سخت )عذاب میں لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا مبتلاکرتے ،تاکہ تو(ان سے ڈر کر)اس (کلام)کے سواکچھ اور(اپنے پاس سے )گھڑ کر ہماری طرف منسوب لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًا۰۰۷۴ کرے۔اور(اگر تم ایسا کرتے تو) اس صورت میں وہ یقیناًتجھے (اپنا )گہرادوست بنالیتے۔حلّ لُغَات۔خلیل خَلِیْلٌکے معنی ہیں اَلصَّدِیْقُ الْمُخَتَصُّ۔خاص کیا ہوادوست۔وَقِیْلَ ھُوَ الَّذِی صَادَقْتَہُ بَعْدَ اِذْ جَرَّبْتَہٗ اوربعض کہتے ہیں کہ خلیل اس دوست پر بولتے ہیں کہ جس کاتجربہ کرلینے کے بعد اس سے دوستی ڈالی جائے۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت کی تفسیر میں مفسرین بعض روایات لکھتے ہیں جن کامفہوم یہ ہے کہ کفار نے رسول کریم