تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 395
مضبوطی سے پکڑ لیں گے (قرطبی سورۃ الحاقۃ لاخذنا منہ بالیمین)۔پس دائیں ہاتھ سے اعمال نامہ دینے سے اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے مضبوطی سے نیکی کوپکڑاتھا اس لئے نجات پاگئے۔اورجن کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیاجائے گا،انہیں یہ بتایاجائے گاکہ تم نے نیکی اورتقویٰ کے لئے پورے زورسے کوشش نہ کی تھی۔اورگویابایا ںہاتھ جو کمزور ہوتاہے استعمال کیا تھا۔اس لئے آج تمہاراانجام خراب ہواہے۔علاوہ ازیں یُـمْن برکت کوبھی کہتے ہیں۔(اقرب) حدیث میں خدا تعالیٰ کے متعلق آتاہے۔کِلْتَایَدَی رَبِّی یَمِیْنٌ کہ میرے رب کے دونوںہاتھ برکت والے ہیں۔اس کاکوئی شمال نہیں۔پس دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دینے سے اس طرف اشارہ ہوگا کہ تمہاراانجام بابرکت ہوا۔فَاُولٰٓىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ سے مراد یہ ہے کہ جسے انعام ملتاہے وہ خوب شوق سے اپنے فیصلہ کو پڑھتاہے لیکن جسے سزاملتی ہے وہ اپنے فیصلے کو پڑھنے کی تاب نہیں لاتا۔اورحتی الوسع اس کے پڑھنے سے گریز کرتا ہے۔وَ لَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا۔فتیل تاگہ کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ وہ بٹاجاتاہے۔اورکھجور کی گٹھلی کے سوراخ میں جوجھلی ہوتی ہے اس کو بھی کہتے ہیں۔استعارۃً تھوڑی سی چیز کے لئے بھی بولاجاتاہے۔پس آیت کامطلب یہ ہے کہ ان پر ذرہ بھر ظلم بھی نہ کیاجائے گا۔وَ مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اورجواس (دنیا)میں اندھارہے گا وہ آخرت میں(بھی )اندھا (ہوگا)اور(اسی طرح وہ)اپنے (طورو)طریق اَضَلُّ سَبِيْلًا۰۰۷۳ میںسب سے بڑھ کر بھٹکاہواہوگا۔تفسیر۔دل کے اندھے قیامت کے دن دیدار الٰہی سے محروم رہیں گے جواس جگہ اندھاہے و ہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔یعنی جس شخص نے یہاں پر روحانی آنکھوں سے کام نہیں لیا وہاںپر بھی اسے روحانی آنکھیں نہیں ملیں گی اوردیدارالٰہی سے محروم ہوگا۔قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا (انعام :۱۰۵)کہ تمہارے پاس دلائل تمہارے رب کی طر ف سے آگئے ہیں جودیکھے گافائدہ پائے گا۔اورجونہ دیکھے گاوہ نقصا ن اٹھائے گا۔پھر فرمایا وَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ