تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 382
شاعرکاشعرہے ؎ فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا کَاَنِّیْ و مَالِکَا لِطُوْلِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَیْلَۃً مَعَا یہاں لِطُوْلِ میں ل کے معنے مَعَ کے کئے گئے ہیں(مغنی اللبیب حرف ا لام )پس وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ کے معنے ہوں گے کہ جب ہم نے فرشتوں کو کہا کہ تم آدم کے ساتھ سجدہ کرو۔اِبْلِیْسَ۔ابلیس کے معنی کے لئے دیکھو حجر آیت نمبر ۳۲۔اَبْلَسَ مِنْ رَحمۃِ اللہِ کے معنے ہیں۔یَئِسَ۔ناامید ہوگیا۔اوراَبْلَسَ فِی أَمْرِہِ کے معنی ہیں۔تَحَیَّرَ۔حیران ہوگیا۔وَقِیْلَ اِبْلِیْسُ مِنْ اَبْلَسَ بمَعْنَی یَئِسَ وَتَحَیَّرَ۔یعنی اَبْلَسَ کے معنی ناامید اور حیران ہونے کے ہیں۔اور اِبْلِیْسُ اسی سے بناہے۔یعنی ناامید اورحیران۔اس نام سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہوگیا ہے۔اورحیران رہ گیا ہے۔جَمْعُہُ اَبَالِیْسُ وَ اَبَالِسَۃٌ۔اس کی جمع اَبَالِیْسُ اوراَبَالِسَۃٌ آتی ہے۔(اقرب) اَلطِّیْنُ :اَلطِّیْنُ تُرَابٌ اَوْ رَمْلٌ وَکِلْسٌ یُجْبَلُ بِالْمَاءِ وَیُطْلٰی بِہٖ۔مٹی یاریت اورچونہ جس میں پانی ملایا گیاہو۔اوراس کے ساتھ لپائی کی جائے (اقرب) تفسیر۔چونکہ پہلی آیات میں یہود کی سرکشیوں کا ذکر کیا تھا۔اب اس پر روشنی ڈالنے کے لئے آدم کے واقعہ کو بطورتمثیل پیش کیا ہے کہ انبیاء کی مخالفت ہمیشہ سے ہوتی چلی آئی ہے۔ابوالبشر آدم جوسب سے پہلے نبی تھا۔اس کی بھی ایک ابلیس نے مخالفت کی اورکہاکہ یہ ادنیٰ ہے۔میں اس سے اچھا ہوں۔پھر اس کی اطاعت کیونکر کروں۔یہی ابتلاء یہود کے سامنے ہے۔و ہ بھی اپنے آپ کو محمدؐرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوران کی قوم سے افضل سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے دل میں یہ خیا ل راسخ ہے کہ بنواسحاق سب ابراہیمی برکات کے وارث ہیں۔اوربنواسماعیل گویا محروم الارث کئے ہوئے ہیں۔پس یہ تکبر ان کے راستہ میں روک بننے والا ہے۔