تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 381

کاواحد ذریعہ اسلام ہے یہودی رہ کر وہ دنیاکے ظلموں کاتختہ مشق ہی بنے رہیں گے۔آیت کے آخر میں فرمایا کہ ہم تو اس قوم کو ان کاانجام بتابتاکر ڈراتے ہیں لیکن یہ سرکشی میں اورزیادہ بڑھتی جاتی ہے۔اس آیت کا تعلق پہلی آیت سے ہے ا س آیت کاتعلق پہلی آیا ت سے یہ ہے کہ ان میں آخری زمانہ کے خطرناک عذاب کو بطور مثا ل پیش کیاگیاتھا۔اب اس آیت میں بتایا ہے کہ وہ عذا ب اسراء والے کشف کا طبعی نتیجہ ہے کیونکہ اس عذاب سے اسلام کی ترقی وابستہ ہے اوراس کے بعداسلام کی وسیع اورعالمگیر اشاعت مقدر ہے۔موجودہ اور سابقہ جنگ یہود کی دخل اندازی سے ہوئی اورساتھ ہی یہود کا ذکر کرکے یہ بتایاکہ یہ قوم بھی فتنہ ہے یعنی وہ دوسرافتنہ اس فتنہ گرقوم کے ذریعہ سے پیدا ہوگاچنانچہ دیکھ لوکہ گزشتہ جنگ عظیم بھی یہود کی دخل اندازی کی وجہ سے ہوئی تھی اورموجودہ جنگ بھی انہی کی وجہ سے ہے۔پہلی جنگ میں یہود نے منظم طورپر جرمنی قوم کے خلاف کام کیا۔جس کانتیجہ یہ ہواکہ اب جرمنوں نے یہود پر ظلم کرنا شروع کیا اوربدلہ لیا۔انہوں نے پھر ان کے خلاف پروپیگنڈا کیااورموجود ہ جنگ شروع ہوئی۔روس کے انقلاب میں بھی کہ وہ اس عذاب کاایک حصہ ہے یہود کاسب سے بڑادخل ہے اورروس کے کئی بڑے بڑے لیڈر یہود ی النسل ہیں۔پہلی جنگ عظیم سے پہلے بعض اخبارات نے یہود کی بعض تحریرات شائع کی تھیں کہ یہود سازش کررہے ہیں کہ ایک بڑی جنگ کراکے فلسطین واپس جانے کے سامان پیداکریں۔آئندہ واقعات نے اس کی تصدیق کردی۔مگرجیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے یہود کافلسطین میں آناعارضی ہوگا ان کویہ ملک دائمی طورپر نہیں مل سکتا کیونکہ دائمی طورپرتویہ مسلمانوں کے لئے مقدرہوچکا ہے۔وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ١ؕ اور(اس وقت کو بھی یاد کرو)جب ہم نے فرشتوں کو کہا تھا (کہ)تم آدم کے ساتھ(ساتھ)سجدہ کروتوانہوں نے قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًاۚ۰۰۶۲ (توا س حکم کے مطابق )سجدہ کیا۔مگرابلیس (نے نہ کیا )۔اس نے کہا(کہ)کیا میں اس کے ساتھ سجدہ کروں جسے تونے کیچڑ سے پیدا کیا ہے حلّ لُغَات۔لِاٰدَمَ۔ل جارہ کے بائیس معنے ہیں۔ان میں سے ایک معنے مَعَ کے ہیں چنانچہ ایک