تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 383

قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ١ٞ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى (اورنیز)اس نے کہا (کہ توہی مجھے)بتا(کہ کیا ) یہ (میرامطاع ہوسکتا)ہے جسے تونے مجھ پرشرف دےدیاہے۔يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِيْلًا۰۰۶۳ اگر تونے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو(مجھے تیری ہی ذات کی قسم ہے کہ )میں اس کی (تمام)اولاد کو قابو میں کر لوںگاسوائے تھوڑے سے لوگوں کے (جنہیں توبچالے )۔حلّ لُغَات۔کَرَّمْتَ عَلَیَّ کَرَّمَہُ(تَکْرِیْمًا وَتَکْرِمَۃً)کے معنے ہیں عَظَّمَہُ وَنَزَّھَہُ اس کو اعزازو شرف دیااوراس کو پاک ٹھیرایا (اقرب)پس ھٰذالَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیََّّ کے معنے ہوںگے کہ (کیا )یہ (میرامطاع ہوسکتا) ہے جسے تونے مجھ پر شرف دےدیا۔لَاَحْتَنِکَنَّ لَاَحْتَنِکَنَّ اِحْتَنَکَ سے مضارع واحد متکلم کاصیغہ ہے اوراِحْتَنَکَ الْفَرْسَ کے معنے ہیں جَعَلَ الرَّسَنَ فِی فِیْہِ۔گھوڑے کے منہ میں لگام دیا۔اوراس کوقابو میں کرلیا۔اِحْتَنَکُہُ: اِسْتَوْلیٰ عَلَیْہِ۔اس پر غالب آگیا۔اس پر قابو پالیا۔اِحْتَنَکَ زَیْدًا:اَخَذَمَالَہُ کُلَّہٗ۔زید کا سارا مال لے لیا۔اِحْتَنَکَ الْـجَرَادُالْاَرْضَ کے معنے ہیں اَکَلَ مَاعَلَیْھَا وَاَتَی عَلیٰ نَبَاتِھَا۔ٹڈیوں نے زمین کی سب چیزوں کوختم کردیا (اقرب)پس لَاَحْتَنِکَنَّ کے معنے ہوں گے کہ میں ضرور ان پر قابو پالوں گا۔تفسیر۔یعنی شیطان نے زبان حال سے مطالبہ کیا کہ مجھے اس وقت تک موقعہ مل جائے جوان کی ترقی کے لئے مقدر ہے۔تومیں ان کے منہ میں لگام دےکر جدھر چاہو ں گالئے پھروں گا ۱؎۔اس آیت میں قیامت سے مراد مومنوں کی ترقی کا وقت ہے کیونکہ ا س وقت کافروں کی قیامت بذریعہ تباہی کے۔اورمومنوں کی قیامت بذریعہ کامیابی کے آجاتی ہے۔اِلَّا قَلِيْلًا کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ تھوڑے سے آدمی میرے تصرف سے بچیں گے۔اوریہ بھی کہ ان کے اعمال اکثر میری فرمانبرداری میں ہوں گے۔تھوڑے اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں گے۔