تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 379
لیکن ان معنوں کااتنا بھی ثبوت قرآن کریم سے نہیں ملتاجتناثبوت کہ شجرئہ زقوم سے ملتاہے۔آنحضرت ؐ نے مروان بن الحکم کے خاندان کو بھی شجرہ ملعونہ کہا بعض روایا ت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف یہ روایت منسوب کی گئی ہے کہ آپؐ نے مروان بن الحکم سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے کہ آپ نے تیرے باپ اورداداسے کہا کہ اِنَّکُمُ الشَّجَرَۃُ الْمَلْعُوْنَۃُ فِی الَقُرْاٰنَ۔یعنی قرآن کریم میں جو شجرئہ ملعونہ کالفظ آتاہے اس سے مراد تمہاراخاندان ہے(درمنثور زیر آیت ھذا)۔بعض نے اس سے مراد وہ شجرئہ خبیثہ لیا ہے جس کا ذکر سورئہ ابراہیم ع۵ میںگذرچکا ہے (روح المعانی زیر آیت ھذا)۔میں خود بھی اس وقت تک یہی معنے کرتا رہا ہوں۔کیونکہ اس کے سواباقی جس قدر معنے کئے گئے ہیں ان کاکوئی تعلق آیت قرآنی کے الفاظ سے نہیں معلوم ہوتا۔میں اس کی تشریح یہ کیاکرتاہوں کہ خبیث اس چیز کو کہتے ہیں جس میں کوئی خیر نہ ہو۔اورجس چیز میںکوئی خیر نہ ہو اس کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے کہ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءً (الرعد:۱۸)۔یعنی جوچیز جھاگ کی طرح بے کار ہو اسے پھینک دیاجاتاہے۔اورلعنت بھی دورکرنے کوکہتے ہیں۔پس جس چیز کی نسبت یَذْھَبُ جُفَآءً کہا جائے۔دوسرے لفظوں میں اسے ملعون بھی کہہ سکتے ہیں۔مگر اس وقت کہ میں یہ نوٹ لکھنے بیٹھاہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک اَورمعنے بھی سکھائے ہیں اورمیں وہ معنے بھی لکھ دیتاہوں کیونکہ ان معنوں کاآیت کے سیاق و سباق سے زیادہ گہراربط معلوم ہوتاہے۔ان معنوں کو سمجھنے کے لئے پہلے شَجَرۃ کے معنے سمجھ لینے چاہئیں۔شجرۃ کے معنے درخت کے بھی ہوتے ہیںاورشجرہ کے معنے خاندان یا قبیلہ کے بھی ہیں۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے شَجَرَۃُ النَّسَبِ مَایُبْتَدَأُ فِیْہَا مِنَ الْجَدِّ الْاَعْلیٰ اِلیٰ اَوْلَادِہٖ ثُمَّ اِلیٰ اَوْلَادِھِمْ وَھَلُمَّ جَرًّا(اقرب)یعنے شجرئہ نسب اسے کہتے ہیں کہ کسی جدّاعلیٰ سے لےکر اس کی اولاد اورپھراس کی اولاد اورپھران کی اولادکا ذکر کیاجائے۔ان معنوں کے روسے شجرئہ ملعونہ کے معنے ایسے خاندان کے ہوسکتے ہیں جوکئی پشت تک خدائی لعنت کے ماتحت رہاہو یارہنے والاہو۔ان معنوں کی سند حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب ہونے والی اس روایت سے بھی مل جاتی ہے جو میں اوپر بیان کرآیا ہوں۔یہ روایت تومیرے نزدیک غلط ہے لیکن اس سے ہم عربی کے محاورہ کی سند لے سکتے ہیں۔کیونکہ بہرحال راوی اورجامع حدیث عرب ہیں اورعربی کے محاورہ کو سمجھتے ہیں۔اس تشریح کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ کیاقرآن کریم میں کسی خاندان کو ایک لمبے عرصہ تک خدائی لعنت کے نیچے آنے والا بتایاگیاہے کہ نہیں۔اگرایسا ہے تووہی خاندان شجرہ ملعونہ ہے۔شجرہ ملعونہ سے مراد وہ قوم ہے جس پر خدا کی لعنت ہوگی یعنی بنی اسرائیل قرآن کریم کودیکھنے سے