تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 380

معلوم ہوتاہے کہ ایک قوم اورخاندان کے لوگ ایسے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ کے لئے ملعون قراردیا ہے۔اوروہ حوالہ یہ ہے۔لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ(المائدۃ :۷۹) بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے کفر کیا ان پر دائود اورعیسیٰ بن مریم نے لعنت کی ہے۔اسی طرح سورۃ نساء میں یہود کا ذکر کرکے فرمایا ہے کہ اے اہل کتاب محمدرسول اللہؐ پر اس دن سے پہلے ایمان لے آئوکہ تمہاری قوم پر عذاب آجائے یاہم ان پر لعنت ڈالیں جس طرح کہ ان کے با پ دادوں پرسبت کے انکار کی وجہ سے لعنت نازل کی گئی تھی۔اسی طرح یہود کی نسبت آتاہے فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ (المائدۃ :۱۴)یعنی یہود سے وعدہ لیاگیاتھا کہ وہ محمد رسول اللہ صلعم پر جب وہ ظاہر ہوں ایمان لائیں گے لیکن انہوں نےچونکہ اس وعدہ کوپورانہیں کیا اس لئے ہم نے ان پرلعنت بھیجی ہے اسی طرح سورئہ مائدہ میں یہود کی نسبت آتاہے مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَيْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِيْرَ (المائدۃ :۶۱)یعنی اے اہل کتاب تم تووہ قوم ہو۔جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اورغضب نازل کیا اوربندراورسؤربنادیا۔اس سے کچھ آیات آگے چل کر پھر آتاہے وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ يَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَيْدِيْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا(المائدۃ :۶۵)یعنی یہودی چندوں اورزکوٰۃ وغیرہ کے مسائل پر تمسخرکرکے کہتے ہیں۔خداان کومال نہیں دیتا اس کے ہاتھ بند ہوگئے ہیں ان کے اس گستاخانہ کلام کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیاہے کہ اس قوم میں بخل پیداہوجائےگا اورمال کی محبت بڑھ جائےگی اوران پر خدا تعالیٰ کی لعنت پڑتی رہے گی۔اس کے علاوہ اورمتعدد مقامات پر یہود کے ملعون ہونے کا ذکر آتاہے پس بنی اسرائیل جوایک نسل کے لوگ تھے ان پر متواترلعنت پڑی اورقرآن کریم نے بھی ان کی قوم پرلعنت ڈالی اورفرمایاکہ اس قو م کو صرف دوطرح امن ملے گا یاتویہ دوسری زبردست قوموں کی پناہ میں چلی جائے یا پھر مسلمان ہوجائے۔ان دونوں طریقوں کے سواان کو کبھی امن نہ ملے گا۔پس میرے نزدیک آیت زیربحث میں شجرئہ ملعونہ سے مراد بنی اسرائیل کی قو م ہے۔اور چونکہ یہ سورۃ بھی خصوصاً سورۃ بنی اسرائیل کے متعلق ہے۔حتٰی کہ اس کاایک نام رسول کریم صلعم نے سور ئہ بنی اسرائیل بتایاہے(ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلٰوۃ باب عدد سجود القرآن) اور چونکہ اس آیت میں بنی اسرائیل ہی کا ذکر ہے کیونکہ ا س آیت میں اسراء کا ذکر کیاگیا ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو بنی اسرائیل کے مرکز میں دیکھا اوروہاں نماز پڑھائی۔پس اسراء والی رؤیاکا ذکرکرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ یہ رؤیا بھی لوگوں کے امتحان کاذریعہ ہے۔اوربنی اسرائیل جن کااس رویا میں خصوصیت کے ساتھ ذکر ہے وہ بھی ایک امتحان ہیں یعنی وہ ہمیشہ اسلام کی بلاوجہ مخالفت کرتے رہیں گے۔چنانچہ دیکھ لوکہ یہود کوسب سے زیادہ امن اسلامی ممالک میں ملتاہے اورپھر بھی یہ لوگ اسلام سے دشمنی ہی کرتے چلے جاتے ہیں اورنہیں سمجھتے کہ ان کے امن