تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 378

شجرہ ملعونہ سے کیا مراد ہے الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ۔فرمایاوہ رویا جو ہم نے تجھ کو دکھائی ہے اسے بھی ہم نے لوگوں کے لئے فتنہ یعنی آزمائش کاذریعہ بنایا ہے اوراس شجر کو بھی ہم نے لوگوں کے لئے آزمائش کاذریعہ بنایا ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں آتاہے کہ وہ ملعونہ ہے۔یہ شجرئہ ملعونہ کیاشے ہے ؟اس بار ہ میں مفسرین میں بہت اختلاف ہواہے۔بعض کہتے ہیں اس سے مراد شجرۃ الزّقوم ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں تین جگہ آیا ہے یعنی سورئہ واقعہ۔سورۃ صافّات اورسورۃ دخان میں۔(کشاف،رازی و ابن کثیر زیر آیت ھذا)اوراس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ قرآن کریم میں جب یہ بیان ہواکہ دوزخیوں کاکھانازقّوم ہے توکفار نے اس پر ہنسی اڑائی۔کیونکہ یمن کی لغت میں زقّوم اس کھانے کوکہتے ہیں جومکھن اورکھجور ملا کر تیارکیا جاتا ہے۔کفار نے اس لفظ کو سن کرخوب شور مچایاکہ محمدصلعم ہمیں زقوم کی خبر دیتاہے یہ تواعلیٰ درجہ کاکھاناہے۔ہمیں اور کیاچاہیے۔ا ن معنوں کے حق میں وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ شجرۃ زقوم کے متعلق بھی قرآن کریم میں آتاہے۔اِنَّاجَعَلْنٰھَافِتْنَۃً لِّلظّٰلِمِیْنَ(الصافات:۶۴) ہم نے زقوم کو ظالموں کے لئے فتنہ کاموجب بنایا ہے۔اوریہی الفاظ فتنہ کے شجرئہ ملعونہ کی نسبت آتے ہیں۔مگرانہیں یہ مشکل پیش آئی ہے کہ قرآن میں اس کے ملعون ہونے کاکہیں ذکر نہیں۔اس کا جواب انہوں نے یوں دیاہے کہ زقوم کی نسبت قرآن کریم میں آتاہے کہ وہ جہنم میں ہوگا۔اورجوچیز جہنم میں ہو و ہ ملعون ہے۔کیونکہ جہنم خداکے غضب کا مقام ہے۔پھر اس توجیہہ پر خود ہی انہوںنے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ شجرہ کیونکر ملعون ہو سکتا ہے۔ملعون تو نافرمان وجود کہلا سکتاہے اورشجرہ توبے جان چیز ہے۔اس کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ چونکہ اس کے کھانے والے ملعون ہو گئے۔اس لئے وہ شجرہ بھی ملعون کہلائے گا۔بعض کے نزدیک شجرہ ملعونہ سے مراد اکاس بیل ہے بعض نے کہا ہے کہ شجرہ ملعونہ سے مراد شجرئہ کشوث ہے (روح المعانی زیر آیت ھذا)۔یعنی و ہ بیل جو درختوں پر چڑھتی ہے تودرخت سوکھ جاتاہے۔(کشوث افتیمون کے بیجو ںکو کہتے ہیں۔افتیمون ایک بیل ہوتی ہے جس کی باریک زرد شاخیں ہوتی ہیں۔جس درخت کے گرد لپٹ جائے۔وہ درخت خشک ہوناشروع ہو جاتا ہے۔اس کی جوقسم ہندوستان میں پائی جاتی ہے اسے اکاس بیل یاامر بیل یاامر لَتَّہ کہتے ہیں۔پنجاب میں غالباً اسی کانام کوڑی ویل ہے۔یعنی کڑوی بیل پنجابی میں ایک دعا ہے ’’تُوکوڑی ویل دی طرح ودھیں۔‘‘یعنی اکاس بیل کی طرح جو بہت جلد پھیل جاتی ہے۔تیری ترقی ہو۔اورجس کے تُومخالف ہو وہ تباہ ہوجائے۔کیونکہ یہ بوٹی جس درخت سے لپٹ جاتی ہے اسے خشک کردیتی ہے )۔