تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 360

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَ فِيْۤ اٰذَانِهِمْ اورہم ان کے دلوں پر (بھی)کئی پردے ڈال دیتے ہیں تاوہ اس(سچائی کے انکار کی حقیقت)کو سمجھیں اوران کے وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى کانوں میں بہرہ پن ہے۔اورجب توقرآن میں اپنے رب کو جو ایک ہی ہے یاد کرتاہے توو ہ نفرت سے اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا۰۰۴۷ (تیری طرف ) اپنی پیٹھیں پھیر کرچلے جاتے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَکِنَّۃ اَلْاَکِنَّۃُ۔اَلْکِنُُّّ کی جمع ہے۔اوراَلْکِنُّ کے معنے ہیں وِقَاءُ کُلِّ شَیْءٍ وَسِتْرُہُ ہرچیز کے اوپر کاپر دہ جواس کے جسم کی حفاظت کرتا ہے۔(اقرب)۔وَقْرًا وَقْرًا وَقَرَ (یَقِرُ)سے ہے اور وَقَرَتْہُ اُذُنُہٗ کے معنے ہیں۔ثَقُلَتْ اَوْ ذَھَبَ سَمْعُہٗ کُلُّہٗ وَصَمَّتْ اس کے کان بوجھل ہوگئے یااس کی شنوائی جاتی رہی اورکا ن بہر ے ہوگئے۔(اقرب)پس وَقْر کے معنے ہوں گے۔بہراپن۔کان کابوجھ۔وَلَّوْا وَلَّوْا وَلّٰی سے جمع کاصیغہ ہے۔اوروَلّٰی ھَارِبًا کے معنے ہیں اَدْبَرَ پیٹھ دے کربھاگ گیا۔وَلَّی الشَّیْءَ وَعَنِ الشَّیْءِ۔اَعْرَضَ وَنَاٰی۔اس نے کسی سے اعرا ض کیااورپہلوتہی کی (اقرب)پس وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ کے معنے ہوں گے کہ وہ پیٹھ پھیر کربھاگ جاتے ہیں۔تفسیر۔اَنْ یَّفْقَھُوْہُ محذوف مفعول لہ کامتعلق ہے۔اورمرادیہ ہے کہ اس کراہت کی وجہ سے ہم نے پردے ڈال دئے ہیں کہ ایسے گندے لوگ جنہوںنے اپنے دلوں کومختلف ظلمتوں میں چھپارکھا ہے۔اسلام میں داخل ہوکر اس کی بدنامی کاموجب نہ ہو ں۔اس اعتراض کا جواب کہ جب پردے خدا نے ڈالے ہیں تو بندوں کا کیا قصور اس پر اعتراض ہوسکتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے ہی پردے ڈال دئے ہیں تووہ کیسے سمجھیں اوران پرالزام کیسا؟تواس کا جواب دوسری جگہ بطور اصو ل کے بیان فرما دیا ہے۔اوروہ یہ ہے۔وَمَایُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ(البقر ۃ :۲۷)کہ اس قسم کے