تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 359

مَااحْتُجِبَ بِہٖ ہروہ چیز جس کے ذریعے پرد ہ کیا جائے (اقرب) تفسیر۔اس آیت کے دومعنے ہیں (۱)کہ جب توقرآن شریف پڑھتا ہے توہم تیرے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جوآخرت پرایمان نہیں لاتے ایک ایساپردہ ڈال دیتے ہیںکہ وہ پردہ خود بھی چھپاہواہوتاہے۔یعنی وہ حجا ب بھی ان کی نظروں سے پوشیدہ ہوتاہے۔یہ اس لئے فرمایاتاکوئی بے سمجھ حجاب کے لفظ سے ظاہری پردہ نہ سمجھ لے۔آنحضرت ؐ اور مخالفین کے درمیان حجاب کی تشریح بعض لوگوں نے پردہ سے ایسا پردہ مراد لیا ہے۔کہ جس سے نبی کریم صلعم چھپ جاتے تھے اورانہوں نے زوجہ ابولہب کاقصہ لکھا ہے۔کہ جب سورۃ اللہب اتری تو فِيْ جِيْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍسن کر وہ غصہ میں بھری ہوئی نبی کریم صلعم کو تکلیف پہنچانے کی نیت سے لپکی۔نبی کریم صلعم نے دعاکی کہ الٰہی !تومجھے اس کے شرسے بچالے۔تو خدا تعالیٰ نے آپ کے آگے پردہ حائل کردیا اوراس وجہ سے وہ آپ کودیکھ نہ سکی(تفسیر کبیر لامام رازی سورۃ اللھب زیر آیت فی جیدھا حبل۔۔)۔یہ محض خرافات ہیں۔خدا کاو ہ رسول جو ساری دنیا سے نہ ڈرا۔ا س کمزور عورت سے اس قدر خائف ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کو اسے غائب کرنا پڑا۔اس غیر معقول بات کو کوئی عقلمند تسلیم نہیں کرسکتا۔اس روایت کو پیش کرنے والے یہ بھی نہیں سوچتے۔کہ خدا تعالیٰ تواس حجاب کو مَسْتُوْر قرار دیتاہے یعنی و ہ پردہ نظر نہیں آتا۔مگریہ لوگ پردے کو ظاہرکرکے نبی کریم صلعم کو مستور قراردیتے ہیں۔(۲)دوسرے معنے اس جملہ کے یہ ہوسکتے ہیں۔وہ پرد ہ بھی آگے ایک اَورپردے کے پیچھے ہوتاہے۔یعنی ایک پردہ ہی تیرے اور ان کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ کئی پردے حائل ہوتے ہیں۔کوئی پردہ قومی غیرت کا۔کوئی مال کا۔کوئی اخلاق کا وغیرہا۔وغیرہا۔یعنی کبھی لو گ اس خیال سے ایمان نہیں لاتے کہ اس کوماناتوقوم چھوڑ نی پڑے گی۔کبھی یہ خیال حائل ہو جاتا ہے۔کہ ما ل جاتارہے گا۔کبھی یہ بات راستہ روک کر کھڑی ہوجاتی ہے کہ کئی قسم کے بداخلاق جن کی عادت پڑی ہوئی ہے چھوڑنے پڑیں گے۔پس اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جب تک یہ لوگ ان پردوںکو نہ ہٹائیں گے تجھ تک نہ پہنچ سکیں گے۔مگر مصیبت یہ ہے کہ و ہ پرد ے ایسے ہیں کہ ان کونظر نہیں آتے۔ان کی نظروں سے پوشید ہ ہیں۔وہ اپنے خیال میں یہ سمجھ رہے ہیں کہ قرآ ن کریم ہی بُری چیز ہے۔اگر وہ اچھی چیز ہوتی توجلدی ہی ہمارے دلوں پر اس کی قبولیت کا اثرہوجاتا۔گویاان کے دلوں پر ایسے زنگ ہیں کہ ان کواچھی چیز بری لگتی ہے۔اور بری چیز اچھی لگتی ہے۔اس لئے ایمان کانصیب ہو نا مشکل ہورہاہے۔ان معنوں کی تصدیق اگلی آیت وَجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اَکِنَّۃً سے ہوتی ہے کہ ان کے دلوں پر ایک پرد ہ نہیں بلکہ کئی پردے ہیں۔