تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 361

پردے انسان کے اپنے نفس سے ہی پیدا ہوتے ہیںکوئی باہر سے نہیں آتے۔تیسر ی جگہ فرمایا۔اَمْ عَلیٰ قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا( محمد:۲۵)کہ ان کے دلوں پرقفل ہیں جو ان کے دلوںسے ہی پیداہوئے ہیں۔پس انسان ہی اپنے لئے پردے اورقفل تجویز کرتاہے اوراللہ تعالیٰ ا س کے اپنے تجویز کئے ہوئے پردوں کو اس کے دل پرڈال دیتا ہے۔کیونکہ جب تک دل صاف نہ ہو۔الٰہی سلسلہ میں داخل ہونے والے کوتوکوئی نفع ہوتانہیں۔الٰہی سلسلہ مفت میں بدنام ہو جاتا ہے۔وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا اس میں’’ وَحْدَہٗ‘‘کالفظ اس پر دلالت کرتا ہے کہ مشرک لوگ خدا تعالیٰ کوتومانتے ہیں لیکن توحید سے انہیں چڑ ہوتی ہے۔یہ بھی پردوں میں سے ایک پردہ ہے۔نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ وَ اِذْ (اور)جب و ہ(بظاہر)تیری باتیں سن رہے ہوتے ہیں توجس غرض سے وہ سن رہے ہوتے ہیںاس (کی حقیقت ) هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ يَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا کوہم (سب سے )زیادہ جانتے ہیں اور(نیز اس کی حقیقت کو بھی)جب وہ باہم سرگوشی کررہے ہوتے ہیں (اور)جب مَّسْحُوْرًا۰۰۴۸ وہ ظالم (ایک دوسرے سے )کہہ رہے ہوتے ہیں (کہ )تم ایک فریب خوردہ شخص ہی کی پیر وی کررہے ہو۔حلّ لُغَات۔یَسْتمعون۔یَسْتَمِعُوْنَ اِسْتَمَعَ سے جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے اوراِسْتَمَعَ لَہُ وَاِلَیْہِ کے معنے ہیں اَصْغٰیاس نے اس کی طرف کان لگاکر بات سنی (اقرب) نَجوٰی۔نَجوٰیکے معنے ہیں اَلسِّرُّ۔بھید۔اَلْمُسَارُّوْنَ۔راز کی باتیں کرنے والے۔وَھُوَ وَصفٌ بِالْمَصْدَرِ یَسْتَوِی فِیْہِ الْمُفْرَدُ وَالْجَمْعُ۔نجوی مصدر ہے جوبطور صفت بیان ہواہے۔اس لئے مفرداورجمع دونو طرح استعمال ہوسکتا ہے۔(اقرب)پس اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى کے معنے ہیں کہ جب و ہ باہم سرگوشی کررہے ہوتے ہیں۔مَسْحُور۔مَسْحُورُکے معنے جس کو دھوکہ دیا گیاجس کو کسی چیز سے روکا گیا۔جس کی عقل ماری گئی۔مسلول۔ان سب معنوں کے لحاظ سے اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا کے یہ معنے ہوں گے کہ تم نہیں اتبا ع کرتے مگراس کی