تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 358
میں دنیا کی ہرایک چیز کا علیحدہ علیحدہ توحید کی دلیل ہونابتایا گیاہے۔دنیا کی اشیاء کو دیکھ لو ایک دوسرے سے کیسی وابستہ ہیں۔بعض چیزیں آپس میں ہزاروں لاکھوں کروڑوں میل پر ہوتی ہیں لیکن سب کاوجود ایک دوسرے سے وابستہ ہوتاہے اورسب آپس میں ایک نظام میں منسلک ہوتی ہیں۔پس ان کاایک ہی قانون سے وابستہ ہونا ظاہرکرتا ہے کہ دنیا میں کوئی دوسراقانون نہیں ورنہ ضرو رخلل ہوتا۔اورجب دوسراقانون ہی نہیں تودوسرے مقنّن کاوجود کس طرح ممکن ہوگا؟ دنیاکی سب چیزیں فرداًفرداًبھی تسبیح کرتی ہیں۔اس طرح کہ ہر چیز میں خدا کی صفات کی جھلک ہے۔خدا کی ستاری۔غفاری۔اس کی خلق۔اس کی ملک وغیرہ تما م صفات ہرایک چیز میں پائی جاتی ہیں یعنی وہ چیز ان باتوں پر عمل کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔دنیاکاکوئی ذرّہ بھی لے لو۔اس میں یہ سب صفات کام کرتی نظر آئیں گی۔پس جب ہرچیز خدائے واحد کی صفات کوظاہر کررہی ہے تواسے کسی اورخدا کی طرف کس طرح منسوب کیاجاسکتاہے۔وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْسے بعض لوگوں نے یہ مراد لی ہے کہ ان کی علیحدہ علیحدہ بولیاں ہیں جوسمجھ میں نہیں آتیں (التفسیر البغوی زیر آیت ھذا)۔اگر ہرچیز کی علیحدہ بولی ہوتی اورہم اسے سمجھ نہ سکتے توہمارے لئے یہ امر دلیل کیسے بن سکتا۔دلیل تووہ ہوتی ہے جسے ہم سمجھ بھی سکیں۔پس یہاں پر تَفْقَھُوْنَ سے مختلف اشیا ء کی بولی سمجھنا مرادنہیں بلکہ یہ بتایا ہے کہ تم یہ نہیں سمجھتے کہ وہ تسبیح کررہی ہیں۔اِنَّهٗ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا وہ حلیم و غفورہے۔اس میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کے علم کی وجہ سے تم بجائے فائدہ اٹھانے کے شرارتوں میں بڑھ رہے ہو کیا تم خیال نہیں کرتے کہ ایسے نظام اوردلائل کے ہوتے ہوئے تمہاراان سے فائدہ نہ اٹھا نا بلکہ شرارتوں میں بڑھتے جانا اورفوراً نہ پکڑے جانا خدا تعالیٰ کے علم کی وجہ سے ہی ہے۔پس شرافت کاجذبہ ظاہر کرو اوراللہ تعالیٰ کے پاس علم کی قدرکرو۔وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَ بَيْنَ الَّذِيْنَ اورجب توقرآن کو پڑھتاہے تو(اس وقت)ہم تیرے درمیا ن اوران لوگوں کے درمیان جوآخرت پرایمان نہیں لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ۰۰۴۶ رکھتے ایک مخفی (اورعام نظروں سے پوشیدہ )پردہ پیداکردیتے ہیں حلّ لُغَات۔حِجَابًا: اَلْحِجَابُ (حَجَبَ۔یَحْجِبُ)کامصدرہے۔اورنیز اس کے معنے ہیں پردہ۔وَکُلُّ