تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 354
ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں خود مشرکوں کا دعویٰ بیا ن کیا ہے کہ وہ بھی اسی غرض یعنی ’’تقرب الی اللہ ‘‘کے لئے ان کی عبادت کرتے تھے۔جیسے کہ سورۃ زمر میں فرمایا مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى(الزمر:۴) کہ ہم توان بتوں کی اس لئے عبادت کررہے ہیںکہ وہ ہمیں خدا کا قرب دلادیں۔یہاں ان کے اپنے دعوے کو ان کے شرک کے رد میں پیش کیاگیا ہے کہ جب ان کی غرض یہی ہے کہ ذی العرش تک پہنچیں۔اورذی العرش کے مقربین سے انہوںنے تعلق بھی پیداکرلیا ہے توپھر توچاہیے توتھا کہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب ہوجاتے مگر اس کے کوئی آثار توان میں پائے نہیں جاتے۔قرب الٰہی کے آثار قرآن شریف سے قرب الٰہی کے مندرجہ ذیل آثار معلوم ہوتے ہیں :۔اول۔دعا کاقبول ہونا۔سورۃ بقرہ ع ۲۳ میں فرمایا ہے کہ وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ١ؕ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ الآیہ(البقرة:۱۸۷)۔کہ جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں توکہہ دے کہ میں تم سے قریب ہوں۔اور میرے قریب ہونے کی یہ علامت ہے کہ پکارنے والے کی پکا ر کا جواب دیتاہوں۔یہ ایسی علامت ہے کہ مشرک بھی اس کی صحت کاانکا ر نہیں کرسکتے۔مگر یہ علامت کسی مشرک میں نہیں پائی جاتی۔مشرکوں میں سے کوئی بھی ایسانہیں جسے قبولیت دعا کا دعویٰ ہو۔آج تک ایک شخص بھی دنیا میں ایسانہیں پیداہواجس نے دعویٰ کیا ہو کہ مجھے ان بتوں کے ذریعہ سے خدامل گیا ہے۔اوروہ میری دعائیں سنتا اورقبول فرماتا ہے اوردنیا نے اس کی قبولیت دعا کے نشان دیکھے ہوں۔قرب الٰہی کا دوسرا معیار لغو اور گناہ سے بچناہے دوسرامعیار قرب الٰہی کا سورۃ واقعہ میں بیان ہواہے۔وہاں مقربوں کا ذکرکر کے فرماتا ہے۔لَایَسْمَعُوْنَ فِیْہَالَغْوًا وَلَاتَاثِیْمًـا اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا (الواقعہ:۲۶،۲۷)یعنی قرب کا مقام وہ ہے جس میں لغواورگناہ کی بات کوئی نہیں ہوتی۔اورلوگ ایک دوسرے کے شرسے بھی محفوظ رہتے ہیں۔اورہرایک شخص دوسرے کی سلامتی تلاش کرتا ہے اوراللہ تعالیٰ سے بھی اسے سلامتی ملتی ہے۔یہ معیار بھی ایسا نہیں کہ کو ئی مشرک اس کاانکا رکرسکے۔ظاہر ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قریب ہوگا لغو باتوں سے اورگناہ سے بچے گا۔اورخدا کابندہ ہوکر ا س کے دوسرے بندوں کی بھلائی میں لگارہے گافساد نہیں کرے گا۔یہ علامتیں بھی کسی مشرک میں نہیں پائی جاسکتیں۔پہلی بات لغو باتوں سے محفوظ ہوناہے۔مشرک میں یہ بات کہاں پائی جاسکتی ہے۔و ہ توشرک کی وجہ سے مضحکہ خیز باتیں کرتاہے۔ایک بے خبر اوربے شر چیز کے سامنے سجدے کرتاہے اس کی عظمت کرتاہے۔حتٰی کہ عقلمند اس کی حرکات کو دیکھ کر حیران رہ جاتاہے۔بھلا یہ غوغا جو گائے کے تقدس