تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 353

پر بالا ستیعاب بحث کرنی ہو لازماً اس میں وہ امور متعددبار بیان ہوں گے۔اور اسے کوئی عقلمند تکرار نہیں کہہ سکتا۔تکرار تو یہ ہے کہ بے وجہ ایک بات کو دہرایا جاوے۔مگر جب ہر دفعہ دوسرے پہلو سے یا دوسری ضرورت سے بات بیان کی جائے تو یہ تکرار کس طرح کہلا سکتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ لوگ غور کر کے قرآن کے مضمونوں کو سمجھتے نہیں اور یونہی سطحی باتوںکی وجہ سے اعتراض کردیتے ہیں۔وَمَایَزِیْدُھُمْ اِلَّانُفُوْرًا نے واضح کیا کہ ہمارے باربار سمجھا نے اورپھر بھی ان کے نہ ماننے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شرک کی وجہ سے ان کی عقل ماری گئی ہے۔ورنہ کیاوجہ ہے کہ ہمارے طرح طرح پر سمجھانے کے باوجود بھی وہ نہیں سمجھتے۔قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى توکہہ (کہ) اگر ان کے قول کے مطابق اس کے ساتھ (کوئی)اورمعبود(بھی )ہوتے تواس صورت میں وہ (یعنی ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا۰۰۴۳ مشرکین ان معبودوں کی مدد سے )عرش والے (خدا)تک (پہنچنے کا )کوئی راستہ ضرورڈھونڈ لیتے حلّ لُغَات۔ذی العرش۔ذِی الْعَرْشِ عرش والا۔اَلْعَرْشُ کے لئے دیکھویونس آیت نمبر ۵۔عَرَشَ۔عَرَشَ عَرْشًا: بَنٰی بِنَاءً مِنْ خَشَبٍ لکڑی کی عمارت بنائی۔اَلْبَیْتَ: بَنَاہُ تعمیر کیا۔اَلْکَرْمَ: رَفَعَ دَوَاِلَیْہُ عَلَی الْخَشَبِ۔بیل کو قرینے سے لگائی ہوئی لکڑیوں پر چڑھایا۔(اقرب) اَلْعَرْشُ سَرِیْرُ الْمَلِکِ اورنگ شاہی۔اَلْعِزُّ۔عزت و غلبہ۔قِوَامُ الْاَمْرِ معاملات اور امور کی درستی کا ذریعہ اور مدار۔رُکْنُ الشَّیْءِ سہارا۔مِنَ الْبَیْتِ :سَقْفُہُ چھت۔اَلْخَیْمَۃُ خیمہ۔اَلْبَیْتُ الَّذِیْ یُسْتَظَلُّ بِہٖ سایہ کا کام دینے والا گھر شِبْہُ بَیْتٍ مِنْ جَرِیْدٍ یُجْعَلُ فَوْقَہُ الثُّمامُ جھونپڑی۔(اقرب) تفسیر۔اس تصریف کی مثال بھی معاً دےدی۔شرک کے مضمون کو پھر بیان کیا ہے لیکن اس میں ایک نئی دلیل پیش کی ہے یونہی پہلی بات نہیں دہرادی فرماتا ہے اگر شرک صحیح ہوتا تو کیا مشر ک لوگ خدا رسیدہ نہ ہو جاتے۔اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًاکے معنے یہی ہیں کہ اگر شرک درست ہوتا تو مشرک لوگ ذی العرش کے ساتھ کوئی تعلق بنا ہی لیتے کیونکہ اس کی بیٹیوں یا بیٹوں سے تعلق پیدا کرکے ان کے لئے قرب کی راہیں کھل جانی چاہیے تھیں۔