تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 352

اِشْتَقَّ بَعْضَہٗ مِنْ بَعضٍ کلام کے ایک حصہ کودوسرے سے مشتق کیا۔صَرَّفَ اللہُ الرِّیَاحَ:حَوَّلَھَا مِنْ وَجْہٍ الٰی وِجْہٍ۔اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کارخ ادہر سے ادہر پھرایا۔صَرَّفَ فُلَانًا فِی الْاَمْرِ :قَلَّبَہٗ فِیْہِ وَفَوَّضَہٗ اِلَیْہِ کسی کام میں کسی کو لگایا اوروہ کام اس کے سپر دکیا (اقرب)پس وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِکے معنے ہوں گے۔ہم نے قرآن مجید میں ہربات کو با ر بار بیان کیا ہے۔نُفُوْرًا: نُفُوْرٌ نَفَرَ کامصدر ہے۔اورنَفَرَتْ (تَنْفِرُ )اَلدَّابَۃُ کَذَا کے معنے ہیں جَزِعَتْ وَ تَبَاعَدَتْ۔جانورڈرکردور بھاگا نَفَرَ الْقَوْمُ نَفْرًا:تَفَرَّقُوْا۔لوگ پراگندہ ہوگئے نَفَرَالْقَوْمُ عَنْ کَذَا :اَعْرَضُوْا وَصَدُّوْا لوگوں نے کسی بات سے اعراض کیا اوراس سے رُکے۔نَفَرَ القَوْمُ مِنْ کَذَا۔أَنِفُوْا وَ کَرِھُوْہُ لوگوں نے اس سے ناک چڑھایا اوراس کو ناپسند کیا۔(اقرب)پس نُفُوْرٌکے معنے ہوں گے۔دورہونا۔پراگندہ ہونا۔اعراض کرنا۔ناپسند کرنا۔تفسیر۔نُفُوْرًا کے معنے اوپر بتائے جاچکے ہیں۔کہ دور ہونے۔پر اگندہ ہونے۔ناپسند کرکے۔اعراض کرنے کے ہوتے ہیں۔ان معنوں کے لحاظ سےوَ مَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا۔کے یہ معنے ہوئے کہ نہیں زیادہ کرتا ان کو مگر دور ہونے میں۔پراگندہ ہونے میں۔ناپسند کرنے میں یااعراض کرنے میں۔یعنی ہم نے قرآن کریم میں قسم قسم کے دلائل بیان کئے ہیںمگرلوگ اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے نفرت ہی کرتے ہیں۔اس سے اعراض ہی کرتے ہیں۔قرآن کریم میں واقعات کے تکرار سے آنے کی وجہ بعض لوگ اعترا ض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں تکرارہے(تفسیر القرآن از ویری جلد سوم صفحہ ۶۲)۔مگر دیکھو قرآن کریم نے خود ہی اس کا جواب دےدیاہے فرماتا ہے۔وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ ہم نے اس قرآن میں ہرپہلو سے مسائل کی بحث کی ہے تاکہ کسی پہلو سے ہی لوگ سمجھیں تب بھی لوگ اعراض کررہے ہیں۔صَـرَّفَ کے معنے کسی چیز کو اچھی طرح سے ردّکرنے کے بھی ہوتے ہیں اورادھر سے ادھر پھرانے کے بھی۔چنانچہ عر بی کامحاورہ ہے صَرَّفَ اللہُ الرِّیَاحَ جس کے معنے ہیں حَوَّلَھَا مِنْ وَجْہٍ اِلَی وَجْہٍ یعنی ہوائوں کارخ ادھر سے ادھر پھیرادیا۔ان دونوں معنوں کو ملحوظ رکھ کر آیت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ (۱)اللہ تعالیٰ خوب اچھی طرح تمام اعتراضات کودورکرتاہے (۲)اللہ تعالیٰ ہر مضمون کو مختلف پہلوئوں سے بیان کرتاہے۔یہ دونوں باتیں قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔تمام اعتراضا ت جو قرآ ن پر وارد ہوتے ہیں ان کو اس میں خو ب اچھی طرح ردّ کیا گیا ہے اور تمام ضروری امورکو مختلف پہلوئوں سے کھو لا گیا ہے۔پس جس کلام نے ہر مسئلہ