تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 348

تفسیر۔ہر حکم کی تعمیل میں اعتدال کو ملحوظ رکھنے کی تلقین اس چھوٹے سے فقرہ میںگویادریا کو کوزہ میں بندکردیاگیا ہے۔فرماتا ہے جس قدر احکام اوپربیان ہوئے ہیں ان کے بُرے پہلو بھی ہیں اوراچھے بھی۔جوبرے پہلو ہیں ان کواللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اچھوں کونہیں۔یعنی کوئی فعل بھی دنیاکاایسانہیں جسے ہرحال میں بُراکہاجاسکے۔توحید اچھی بات ہے لیکن اگرانسان توحید کوفساد کاموجب بنالے اوردوسری اقوام کے معبودوں پر آوازے کسے تویہی توحید بری ہوجائے گی ماں باپ کاادب اچھا فعل ہے لیکن ان کے کہنے پر شرک یا ظلم کرنے لگ جائے تویہ براہوجائے گا۔قتل برافعل ہے لیکن دفاع قوم سے یا ضروری قصاص سے جی چرائے تویہ براہوگا۔یتیموںکے مال کو ہاتھ نہ لگانااچھا ہے لیکن اگرگناہ کے ڈر سے ان کے مال کی حفاظت چھوڑ دے تویہ بھی براہوگا۔دیانتداری کے غلط مفہوم سے بچنے کی تلقین سودے میں دیانت اچھی چیز ہے مگربددیانتی سے ڈر کر کسب حلال بھی چھو ڑ دے تو براہوگا۔شہوانی قوتوںکو ان کے دائرہ میں رکھنا اچھا ہے لیکن ان کو بالکل نظر انداز کردینااوررہبانیت اختیار کرلینا یاان کو ناجائز طور پر استعمال کرنا برافعل ہوگا۔بدظنی نہ کرنااچھا فعل ہے لیکن ایک پہرہ دار حسن ظنی سے کام لیتے ہوئے دوسروں کو اپنی حفاظت کی اشیاء کے پاس جانے دے تویہ بُراہوگا۔تکبر نہ کرنا اچھا فعل ہے لیکن بہادر ی اورجرأت دکھانے کے موقعہ پر انکسار دکھائے تویہ بھی براہوگا۔پس فرمایا کہ احکام کی حکمتوںکو سمجھو اورموقع اور محل پر ہرقوت کو استعمال کرو۔اللہ تعالیٰ تم کو اپنی قوتوں کے استعمال سے نہیں روکتا بلکہ ان کے غلط استعمال سے روکتا ہے۔انسانی اعمال کی یہ تشریح ایسی کامل ہے کہ اس کو نہ سمجھنے سے ہی سب خرابیاں پیداہوتی ہیں۔مگرکتنے لوگ ہیں جواس میانہ روی پر کاربندہیں۔ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ یہ (تعلیم)اس (علم اور)حکمت میں سے (ایک حصہ)ہے جوتیرے رب نے وحی کے ذریعہ سے تیری طرف بھیجی وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى ہے۔اورتو اللہ(تعالیٰ)کے ساتھ کوئی اورمعبود مت بنا ورنہ توملامت کا نشانہ بن کر (اور) فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا۰۰۴۰ دھتکاراجاکر دوزخ میں ڈال دیاجائے گا۔تفسیر۔سبحان اللہ! کیاعجیب ترتیب ہے۔پہلے سورۃ نحل میں فرمایاتھا کہ حکمت آنے والی ہے اب اس