تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 344

تفسیر۔چونکہ پچھلی آیت میں حقوق کی واپسی کاحکم دیاتھا۔اس لئے اس کے ساتھ ملتاہواحکم اس کے بعد بیان کردیا اورفرمایا کہ جس طرح یتیم کواس کامال اداکرنے کاحکم ہے اسی طرح آپس کے کاروبار میں ایک دوسرے کاحق پورا ادا کرنے کابھی ہم حکم دیتے ہیں۔ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًا کہہ کر اس طرف اشار ہ کیا ہے کہ یہ عمل دینی لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے اوردُنیوی انجام کے لحاظ سے بھی۔کیونکہ جس تاجر کے متعلق لوگوں کوعلم ہوجائے کہ وہ کم تولتا ہے یاجس قوم کے متعلق یہ یقین ہوجائے کہ اس کالین دین اچھا نہیں اس کی تجارت کو آخر نقصان پہنچ جاتا ہے۔وَ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ اور(اے مخاطب)جس بات کاتجھے علم نہ ہواس کی اتباع نہ کیا کر (کیونکہ )کان اورآنکھ اوردل الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا۰۰۳۷ ان سب کے متعلق پوچھا جائے گا۔حلّ لُغَات۔لَاتَقْفُ۔لَاتَقْفُ قَفَاسے نہی مخاطب کاصیغہ ہے۔اورقَفَا أَثَرَہٗ (یَقْفُوْ) کے معنے ہیں۔تَبِعَہٗ۔اس کی پیر وی کی۔قَفَا فُلَا نًا بِاَمْرٍ:اٰثَرَہٗ بِہٖ۔کسی چیز کے متعلق اسے ترجیح دی (اقرب)پس لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌکے معنے ہو ں گے اے مخاطب تواس کی پیروی نہ کر جس کاتجھے علم نہیں۔تفسیر۔بدظنی کی تشریح اس سے یہ مطلب نہیںکہ کوئی نیاعلم نہ سیکھو اورنئی نئی تحقیقاتیں نہ کرو۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بدظنی نہ کرو اور بغیر تحقیق کے دوسروں پر الزام نہ لگائو۔چنانچہ اس کے آگے وہ اسباب جن سے بدظنی پیداہوتی ہے بیان کئے ہیں۔یعنی کان آنکھ اوردل۔بعض دفعہ انسان دوسرے کے متعلق بات سن کر اس بات کوپلے باندھ لیتا ہے اوربغیر تحقیق دشمنی شروع کردیتاہے۔بعض دفعہ ایک واقعہ دیکھتا ہے اوراس سے غلط نتیجہ نکال لیتا ہے اوریہ تحقیق نہیں کرتاکہ ممکن ہے کہ اس فعل کی کوئی جائزوجہ ہو جسے دیکھ کراس نے بُراسمجھ لیا۔اوربعض آپ ہی آپ اپنے دل میں ایک بات پیداکرلیتے ہیں۔ان سب باتوں سے روکااورفرمایا کہ ظنی باتوں کے پیچھے نہیں پڑناچاہیے۔بدظنی کے موجبات بدظنی کے موجبات میں کان سب سے بڑاموجب ہے۔زیادہ ترلوگوں سے باتیں سن کر