تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 336
بھی بتاتاہے اورایسی ہی تعلیم بنی نوع انسان کی حفاظت کرسکتی ہے۔جوکتاب گناہ سے بچنے کے ذرائع نہیں بتاتی وہ انسان کو ایک پریشانی میں مبتلاکردیتی ہے۔اطمینان وہی کتاب پیداکرسکتی ہے جوکسی بات سے منع کرنے کے ساتھ ہی اس سے بچنے کے ذرائع بھی بتادے تاانسان کو تسلی ہو کہ میں اس حکم پرعمل کرسکوں گا۔انجیل کہتی ہے کہ توکسی عورت کو بد نظری سے نہ دیکھ۔لیکن قرآن کہتاہے کہ توکسی نامحرم عورت کی طرف نظر اٹھا کرہی نہ دیکھ۔کیونکہ وہ کشش جو انسان کے دل میں لغزش پیداکرتی ہے۔جب اس کے لئے راستہ کھول دیاجائے توحفاظت ناممکن نہیں تونہایت مشکل ضرور ہوجاتی ہے۔اس حکمت کے ماتحت اس جگہ فرمایا ہے کہ تم گناہ کے مقام سے اتنی دور کھڑے رہو۔کہ جہاں سے تم بدی کامقابلہ کرسکو۔بعض نے کہا ہے کہ یہ توبزدلی ہے۔مگریہ بزدلی نہیں یہ تواحتیاط ہے اوراحتیاط کو کوئی عقلمند بزدلی نہیں کہتا۔ظاہر ہے کہ انسان دوہی قسم کے ہوسکتے ہیں۔اول وہ جو گناہ کے پاس جاکربھی بچ سکتاہے۔ایسے شخص کو گناہ کے مقام سے دور رہنے کی اس لئے تاکید کی۔کہ گویہ توبچ سکتا ہے مگرممکن ہے۔کہ اس کی طرف دیکھ کر دوسرے لوگ بھی ا س مقام تک چلے جائیں۔اوراپنی کمزوری کی وجہ سے گناہ میں مبتلاہوجائیں۔پس ایسے شخص کولوگوں کے لئے ٹھوکر کاموجب نہ بننا چاہیے۔دوسری قسم کے وہ لو گ ہیں جوگناہ کے مواقع پیدا ہونے کی صورت میں اس سے بچ ہی نہیں سکتے۔ان کواس سے قریب بھی نہ جانے دینے کی حکمت تو ظاہرہی ہے۔پس خواہ انسان گناہ کے قریب ہو کر بچ سکتاہو۔خو اہ نہ بچ سکتاہو۔دونوں صورتوں میں اس کو گناہ کے قریب تک بھی نہیں جاناچاہیے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس مقا م کی طرف جانے میں کوئی خاص فائدہ مدنظر ہواس کی طرف نہ جانابزدلی کہلاسکتاہے۔مگر جس جگہ کی طرف جانا یانہ جاناکوئی خاص فائدہ نہ رکھتاہو اس سے الگ رہناہرگزبزدلی نہیں کہلاسکتا۔سَآءَ سَبِيْلًا کے الفاظ میں زنا کے نقصانات کی طرف اشارہ سَآءَ سَبِيْلًا ان الفاظ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ علاوہ اخلاقی گناہ ہونے کے زنامیں اوربھی بہت سے نقصانات ہیں۔جوانسان شادی کرتا ہے وہ ضرور احتیاط کرلیتا ہے کہ ایسی لڑکی سے شادی کرے جس کی صحت اچھی ہو۔اسے کوئی متعدی مرض نہ ہو۔عادات و اخلاق اچھے ہوں۔اسی طرح لڑکی کے رشتہ دار لڑکے کے متعلق سوچ سمجھ لیتے ہیں۔مگرزنا میں یہ احتیاط نہیں ہوسکتی۔کیونکہ زناہوتاہی شہوانی جذبات کے جوش میں آجانے کی صورت میں ہے اوراس وقت انسان کسی قسم کی احتیاط نہیں کرسکتا جس کانتیجہ کئی قسم کی امراض یامالی تباہی کی صورت میں نکلتاہے پس فرمایا شہوانی تقاضوں کے پوراکرنے کایہ