تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 335

یعنی زیر ہو تو اس سے مراد صر ف وہ گنا ہو گا۔جس میں اراد ہ پایاجائے اس لفظ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اولاد کاقتل ایک ایسا جرم ہے کہ جس کوفطرت بھی رد کرتی ہے یعنی جس کے احساسات طبعی مرچکے ہوں وہی ایسافعل کرسکتا ہے۔دوسرانہیں کرسکتا۔اِنَّہُ کَانَ خِطْأً کَبِیْرًا کے الفاظ بھی بتاتے ہیں کہ یہاں وہ قتل مراد نہیں جو زہر یاآلہ سے کیا جاتا ہے کیونکہ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ قتل کثر ت سے پایا جاتا ہے مگر اپنے ہاتھوں بچوں کاقتل ہرگز کسی ملک میں بھی ایسے رنگ میں نہیں پایاجاتا کہ اسے قومی جرم قراردیا جائے اس امر کاثبوت کہ یہ عام قتل سے جداقسم کاقتل ہے یہ بھی ہے کہ قتل کے خلاف حکم آگے چل کر بیان کیا گیا ہے۔اس میں بچوں کاقتل بھی شامل ہے پس ظاہر ہے کہ اس جگہ قتل سے مراد کچھ اورہے۔اس آیت میں نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِيَّاكُمْ فرماکر اس امر پر زور دیا ہے کہ انسان کے رزق میں اس کی اولاد کا رزق شامل ہے پس اس سے محروم نہیں کرنا چاہیے اسی وجہ سے نَرْزُقُھُمْ کو پہلے رکھا اورباپ کے رزق کوبعد میں بیا ن کیا ہے۔وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِيْلًا۰۰۳۳ اورزناکے قریب (بھی )نہ جائو وہ یقیناً ایک کھلی بے حیائی اوربہت براراستہ ہے۔حلّ لُغَات۔فَاحِشَۃ۔فَاحِشَۃٌکے معنے ہیں مَایَشْتَدُّ قُبْحُہٗ مِنَ الذَّنُوْبِ۔ہروہ غلطی جو بہت بُری ہو۔وَقِیْلَ کُلُّ مَانَھَی اللہُ عَنْہٗ۔ہروہ بات جس سے اللہ نے روکاہے۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں زناسے بچنے کاحکم قتل اولاد کے ذکر کے بعد دیا ہے۔اس میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ زناسے بھی اولاد کاقتل ہوتا ہے۔کیونکہ اول تو حرام کی اولادکو عام طورپر ضائع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔دوسرے اگر ضائع نہ بھی ہو تب بھی اس کی تربیت اورپرورش میں مرد کھل کرحصہ نہیں لے سکتا۔اوروہ اولاد بالعموم بغیر والی وارث کے رہ کرتباہ ہوجاتی ہے۔وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى میں لفظ قرب کے استعمال میں حکمت لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى کے الفاظ استعمال کرکے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ مواقع زناپیداہی نہ ہونے دو۔یعنی نامحرم عورتوں سے الگ نہ ملو۔ان سے زیادہ خَلاملا نہ رکھو وغیرہ وغیرہ۔قرآن کریم کی یہ بہت بڑی فضیلت ہے کہ وہ نہ صرف گناہ سے روکتاہے بلکہ گناہ سے بچنے کے ذرائع