تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 323
قَوْلًا كَرِيْمًا۰۰۲۴ شریفانہ طورپر نرمی سے بات کر۔حلّ لُغَات۔قضٰی۔قَضٰی عَلَیْہِ عَھْدًا اَوْصَاہُ۔اس کو تاکیدی حکم دیا۔قَضَی الْعَھْدَ:اَنْفَذَہُ۔عہدواقرار کو جاری کیا۔اِلَیْہ الْاَمْرَ :اَنْھَا ہٗ وَاَبْلَغہٗ۔اس تک کسی امر کو پہنچایا۔وَفِی الْاَسَاسِ قَضٰی اِلَیْہِ اَمْرً وَعَھْدًا: وَصَّاہُ بِہِ وَاَمَرَہُ بِہٖ۔اوراساس میں قضٰی اِلَیْہِ اَمْرًا کے معنے یہ کئے گئے ہیں کہ اسے تاکید ی حکم دیا۔(اقرب) اُفّ۔اُفٍّناپسندیدگی۔بے قرار ی اورحقار ت کے اظہار کے لئے یہ لفظ استعمال کیاجاتا ہے(اقرب) لاتَنْھَرْھُمَا لَاتَنْھَرْھُمَانَھَر سے نہی مخاطب کاصیغہ ہے۔اور نَھَرَ السَّائِلَ کے معنی ہیں۔زجَرہٗ۔سائل کو جھڑکا (اقرب) پس لَاتَنْھَرْھُمَا کے معنے ہوں گے کہ انہیں نہ جھڑک۔قولًا کریمًا قَوْلًا کَرِیْمًاای سھلًا لیّنًا۔نرم پسندید ہ بات۔(اقرب) تفسیر۔اب اللہ تعالیٰ وہ ترکیب بتاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے نظام کو محفوظ رکھ سکتاہے۔چنانچہ قرآن کریم کی تعلیم کاخلاصہ بیان کرتے ہوئے ا س بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہدایت کے دنوں میں ان احکام کی پابندی کرنا اور ان کاخیال رکھنا۔تب ہی تم تنزّل سے بچ سکو گے۔ورنہ ترقیات قائم نہ رہ سکیں گی۔قرآ ن مجید نے سب سے مقدم حکم توحید کے قیام اورشرک کے ردّکا دیا ہے۔جب دنیا میںحکومتیں ملتی ہیں توساتھ ہی توہم پرستی اورشرک بھی پیداہوجاتے ہیں۔اس لئے جہاں ترقیات کی پیشگوئی کی وہاں آئندہ کے خطرات سے بھی بچنے کاحکم دیا۔اوران سے آگاہ کردیا۔توحید کو اس لئے مقدم رکھا ہے کیونکہ کوئی گناہ بغیر شرک کے پیدا نہیں ہوتا۔سب گناہ شرک کی شاخیں ہیں میرے نزدیک سب گناہ دراصل شرک ہی کی شاخیں ہیں۔گناہ کا مرتکب انسان اسی لئے گناہ کامرتکب ہوتاہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ذات اورصفات پر کامل ایمان اورتوکل نہیں رکھتا۔توحید کامسئلہ نیکیوں کے لئے بطورایک بیج ہے۔تمام مذاہب اور تما م اخلاق اسی مرکز کے گرد چکر لگاتے ہیں۔اگرتوحید کاعقیدہ نہ اختیار کیاجائے۔توقانون قدرت اورقانون شریعت دونوں کی بنیاد ہل جاتی ہے۔قانون شریعت کاتعلق توواضح ہی ہے۔مگرقانون قدر ت کی تما م ترقیا ت اورسائنس کی تما م تربنیاد بھی توحید پر ہی ہے۔کیونکہ اگر مختلف